امریکی پابندیوں کے باوجود چابہار میں سرمایہ کاری جاری رکھی جائے، ایرانی وزیر خارجہ کی ہندوستان سے اپیل

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ہندوستان پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کے دباؤ کے باوجود اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم چابہار بندرگاہ میں اپنی سرمایہ کاری اور ترقیاتی کاموں کو جاری رکھے۔ برکس (BRICS) ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر نئی دہلی کے نامہ نگاروں اور سفارتی حلقوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے چابہار منصوبے کو ہندوستان کے لیے وسطی ایشیا، قفقاز اور یورپ سے جوڑنے والا ایک ”سنہری دروازہ“ قرار دیا۔ انہوں نے بندرگاہ کی تعمیر و ترقی میں ہندوستان کے اب تک کے کردار کی ستائش کی اور امید ظاہر کی کہ نئی دہلی پابندیوں سے پیدا ہونے والی حالیہ پیچیدگیوں کے باوجود اس اہم منصوبے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چابہار بندرگاہ ایران اور ہندوستان کے مابین تاریخی اور اقتصادی تعاون کی ایک روشن علامت ہے، تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ یکطرفہ امریکی پابندیوں کے سبب اس منصوبے کی ترقی کی رفتار حالیہ دنوں میں سست پڑ گئی ہے۔ سید عباس عراقچی نے چابہار کی جغرافیائی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ یہ تجارتی راستہ جہاں ہندوستان کو متبادل منڈیوں تک رسائی فراہم کرے گا، وہیں یورپ اور وسطی ایشیا کے ممالک کے لیے بحرِ ہند تک پہنچنے کا ایک محفوظ اور مختصر ترین ذریعہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے ہندوستان کی سفارتی حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے مابین جاری شدید کشیدگی اور مغربی ایشیا کے بحران کے دوران نئی دہلی کا سفارتی نقطہِ نظر متوازن رہا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہندوستان خطے میں استحکام اور امن کو فروغ دینے کے لیے اپنا بڑا اور موثر کردار ادا کرے۔

ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے یہ اہم بیان ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب چابہار بندرگاہ کے حوالے سے امریکہ کی جانب سے دی گئی پابندیوں کی خصوصی چھوٹ کی مدت گزشتہ ۲۶ اپریل کو ختم ہوچکی ہے۔ اس سے قبل واشنگٹن نے نئی دہلی کو ایران پر عائد سخت اقتصادی پابندیوں کے باوجود اس ساحلی منصوبے پر کام کرنے کی عارضی اجازت دے رکھی تھی۔ امریکی چھوٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سفارتی تعطل اور ممکنہ دباؤ کے ماحول میں ایران نے ہندوستان کو اسٹریٹجک شراکت داری یاد دلائی ہے تاکہ خطے کے اقتصادی مفادات کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔

بین الاقوامی برادری اور دفاعی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب واقع چابہار بندرگاہ ہندوستان کی خارجہ اور تجارتی پالیسی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ بندرگاہ ہندوستان کو پاکستان کی سرزمین کا استعمال کیے بغیر افغانستان اور وسطی ایشیا کی بھرپور مارکیٹ تک براہِ راست تجارتی رسائی فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مئی ۲۰۲۴ء میں ہندوستان نے چابہار بندرگاہ پر واقع شاہد بہشتی ٹرمینل کو چلانے کے لیے ایران کے ساتھ ۱۰ سالہ طویل مدتی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ہندوستانی انتظامیہ نے ٹرمینل کا آپریشنل کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ ہندوستان اس پورے پروجیکٹ کو ’انٹرنیشنل نارتھ-ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور‘ (INSTC) کا سب سے اہم ستون مانتا ہے، جس کا مقصد روس، وسطی ایشیا اور یورپ کے ساتھ ہندوستان کے تجارتی روابط کو نئی بلندیوں پر لے جانا ہے۔ سفارتی سطح پر چابہار کو پاکستان کی گوادر بندرگاہ اور خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ یعنی ‘اسٹرنگ آف پرلز’ کے مقابلے میں ہندوستان کے اسٹریٹجک توازن کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

امریکی پابندیوں کے سائے میں چابہار پر آگے بڑھنا اب نئی دہلی کے لیے ایک بڑا سفارتی چیلنج بن چکا ہے۔ ایرانی قیادت کو توقع ہے کہ ہندوستان اپنے خودمختار متبادل تجارتی راستے کو برقرار رکھنے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ سفارتی مذاکرات کرے گا اور چابہار پورٹ کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے اپنی مالی و تکنیکی سرمایہ کاری کا سلسلہ منقطع نہیں ہونے دے گا، کیونکہ اس منصوبے کی کامیابی پر خطے کے کئی ممالک کا مستقبل منحصر ہے۔

شیئر کریں۔