عید الاضحی سے قبل مغربی بنگال میں سخت ترین پابندیاں ، مسلمانوں میں تشویش

مغربی بنگال میں حکومت کی تبدیلی کے بعد اقلیتوں کے مذہبی شعائر اور روزگار کو متاثر کرنے والے یکطرفہ فیصلے سامنے آنے لگے ہیں۔ ریاست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نئی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے عیدالاضحیٰ (بقرعید) سے چند روز قبل ایک متنازعہ فیصلہ کرتے ہوئے گائے، بیل، بھینس اور بچھڑوں کے عوامی مقامات پر ذبیحہ پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان جانوروں کی قربانی یا ذبح سے قبل سرکاری ویٹرنری افسر سے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے، جس نے مسلم کمیونٹی اور مویشی تاجروں کے لیے شدید مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

محکمہ داخلہ و پہاڑی امور کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، کوئی بھی شخص کسی بھی مویشی کو اس وقت تک ذبح نہیں کر سکتا جب تک مجاز اتھارٹی سے یہ سرٹیفکیٹ حاصل نہ کر لیا جائے کہ جانور ذبیحہ کے قابل ہے۔ قانون کو اس قدر سخت بنایا گیا ہے کہ سرٹیفکیٹ صرف اسی صورت میں جاری ہوگا جب جانور کام کرنے یا افزائش نسل کے قابل نہ رہا ہو اور اس کی عمر 14 سال سے زیادہ ہو چکی ہو، یا وہ کسی لاعلاج بیماری یا جسمانی نقص کے باعث مستقل طور پر ناکارہ ہو گیا ہو۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ ان شرائط پر پورا اترنے والے جانوروں کو بھی صرف سرکاری میونسپل سلاٹر ہاؤس یا مقامی انتظامیہ کے نامزد کردہ مقامات پر ہی ذبح کیا جا سکے گا، اور کسی بھی کھلے عوامی یا نجی مقام پر ذبیحہ سخت ممنوع ہوگا۔ مغربی بنگال اینیمل سلاٹر کنٹرول ایکٹ 1950 کے تحت ان قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو چھ ماہ تک قید، ایک ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار اور انسانی حقوق کے کارکنان اس اقدام کو بی جے پی کے وسیع تر ہندوتوا ایجنڈے کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ عیدالاضحیٰ سے ٹھیک پہلے اس طرح کی سخت ترین شرائط کا نفاذ ظاہر کرتا ہے کہ اس کا براہِ راست نشانہ مسلم قصاب، مویشی تاجر اور مسلمانوں کی روایتی و مذہبی قربانی کے طریقے ہیں۔ اگرچہ حکومت اس کارروائی کو عدالتی ہدایات اور پرانے قوانین کا نفاذ بتا رہی ہے، لیکن زمینی سطح پر اس کے اثرات اقلیتوں کو ہراساں کرنے کے مترادف ہیں۔ یہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب بی جے پی حکومت نے مالدہ، مرشد آباد، اور شمالی و جنوبی 24 پرگنہ جیسے مسلم اکثریتی اور سرحدی اضلاع میں روایتی مویشی منڈیوں اور سلاٹر ہاؤسز کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔

بنگال میں مسلم برادری کے خلاف جارحانہ رویہ انتخابات کے فوری بعد ہی نمایاں ہو گیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی فتح کے فوراً بعد کولکاتا کے مشہور نیو مارکیٹ علاقے میں مسلم گوشت فروشوں کی کئی دکانوں کو مبینہ طور پر جشن کے دوران بلڈوز کر دیا گیا تھا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ بی جے پی حامیوں نے دانستہ طور پر مسلم تاجروں کو نشانہ بنا کر ریاست میں ‘بلڈوزر سیاست’ متعارف کرانے کی کوشش کی ہے۔ مودی حکومت کے دور میں 2014 کے بعد سے ملک بھر میں گائے کے ذبیحہ اور گوشت رکھنے کے جھوٹے الزامات پر ہجومی تشدد (لنچنگ) کے واقعات میں خوفناک اضافہ ہوا ہے، جس میں درجنوں مسلمان اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

عیدالاضحیٰ کے موقع پر نافذ کی گئی ان نئی پابندیوں نے مغربی بنگال کے کروڑوں مسلمانوں کو خوف اور غیر یقینی کی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے۔ مسلم تنظیموں اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قوانین نہ صرف مذہبی آزادی پر قدغن لگاتے ہیں بلکہ لاکھوں غریب مسلمانوں کے روزگار کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔ چونکہ چودہ سال سے زائد عمر کے جانوروں کا حصول اور پھر عید کے تین دنوں میں سرکاری دفاتر سے سرٹیفکیٹ نکلوانا عملی طور پر ناممکن ہے، اس لیے اس فیصلے کا مقصد مسلم برادری کو ہراساں کرنا اور شدت پسند گروہوں کو قانون ہاتھ میں لینے کا موقع فراہم کرنا معلوم ہوتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے اس فیصلے پر نظرثانی کرنے اور عید کے دوران مسلم شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر کریں۔