اتر پردیش کے سابق کابینہ وزیر اور سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما محمد اعظم خان کو رام پور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔ انہیں 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران اس وقت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پر مبینہ متنازعہ تبصرہ کرنے کے معاملے میں قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔
عدالت نے ہفتے کے روز اس مقدمے کی سماعت مکمل کی اور اعظم خان پر قید کے ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا۔ یہ معاملہ 2019 کی انتخابی مہم کا ہے جب اعظم خان بھوٹ تھانہ علاقے میں ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ اس تقریر کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر اس وقت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو ‘تنخواہ دار ملازم’ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ الیکشن جیتنے کے بعد وہ ان افسران سے جوتے صاف کروائیں گے۔ استغاثہ نے عدالت میں ویڈیو فوٹیج اور سرکاری افسران کے بیانات پیش کیے جس کی بنیاد پر انہیں مجرم قرار دیا گیا۔ اس وقت اعظم خان سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی اتحاد کے مشترکہ امیدوار تھے۔
اس فیصلے کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی ریاستی حکومت پر ایک بار پھر سیاسی انتقام کے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سمیت کئی اپوزیشن رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ 2017 میں بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد سے اعظم خان کے خلاف دانستہ طور پر لگ بھگ نوے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ناقدین اور سیاسی تجزیہ کار عدالتی فیصلوں کی ٹائمنگ اور انتظامیہ کے رویے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ریاست میں اقلیتوں کی ایک مضبوط اور قدآور سیاسی آواز کو دبانے کے لیے ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ سنگین جرائم میں ملوث حکمران جماعت کے رہنماؤں کو مبینہ طور پر کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔
دو سال کی یہ تازہ سزا اعظم خان کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے۔ قانون کے مطابق دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا پانے والا عوامی نمائندہ الیکشن لڑنے کے لیے نااہل ہو جاتا ہے۔ اعظم خان پہلے ہی ایک سابقہ مقدمے میں اپنی اسمبلی رکنیت گنوا چکے ہیں۔ اس مسلسل قانونی کارروائی نے ان کے حامیوں اور مسلم کمیونٹی میں مایوسی اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔ یہ صورتحال اس بحث کو بھی تقویت دے رہی ہے کہ کیا واقعی ریاست میں انصاف کے پیمانے سب کے لیے برابر ہیں یا قانون کا استعمال سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے ہو رہا ہے۔
اعظم خان اس وقت دیگر مقدمات کے سلسلے میں جیل میں قید ہیں۔ ان کی قانونی ٹیم نے اس تازہ عدالتی فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وکلاء اس سزا پر حکم امتناع حاصل کرنے اور اپیل دائر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سیاسی محاذ پر سماجوادی پارٹی اس معاملے کو عوامی سطح پر بھرپور انداز میں اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ریاستی حکومت کی مبینہ انتقامی پالیسیوں کو بے نقاب کیا جا سکے۔
محمد اعظم خان کے خلاف جاری مقدمات کا یہ طویل سلسلہ اتر پردیش کی سیاست کے ایک انتہائی تلخ باب کی عکاسی کرتا ہے۔ ریاستی حکومت اسے قانون کی بالادستی اور جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا نتیجہ قرار دیتی ہے، لیکن اپوزیشن اور انسانی حقوق کے کارکن اسے صریحاً سیاسی انتقام کی مہم کے طور پر دیکھتے ہیں جس نے ریاست کے جمہوری اور انتظامی ڈھانچے پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔




