مفتی اشفاق قاضی
سفرِ حج، کائنات کا وہ واحد سفر ہے جہاں مسافر کی منزل کوئی شہر یا خطہ نہیں، بلکہ خالقِ کائنات کی رضا اور اس کی رحمت کا حصول ہے، یہ محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ بندگی کی معراج ہے، جہاں انسان اپنے تمام دنیاوی امتیازات، عہدوں اور مال و منال کو پسِ پشت ڈال کر صرف ایک ’غلام‘کی حیثیت سے اپنے آقا کے دربار میں حاضر ہوتا ہے، قرآنِ کریم نے اس عظیم عبادت کی بنیاد تقویٰ و پرہیزگاری پر رکھی ہے، سورہ البقرہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْویٰ‘‘ (البقرہ) یعنی اور زادِ راہ ساتھ لے لیا کرو، پس بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے، لیکن دورِ حاضر میں مادیت پرستی کے غلبے نے اس روحانی سفر کو ایک ’مقدس سیاحت‘ کی شکل دے دی ہے، عازمینِ حج کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مسموم فضا سے نکل کر حج کی اصل روح کو سمجھیں اور چند اہم گزارشات کو حرزِ جاں بنائیں، آج کل ’حج پیکیجز ‘میں ’فائیو اسٹار‘ سہولیات، حرم سے قریب ترین ہوٹلوں اور پرتعیش کھانوں کا اس قدر چرچا ہوتا ہے کہ عازم کے ذہن میں یہ سفر ایک ’مقدس پکنک‘ کا تاثر پیش کرنے لگتا ہے-
یاد رکھیے! حج کا فلسفہ ’تجريد‘ (دنیا سے کٹ جانا) اور’اشعث اغبر‘(پراگندہ بال اور غبار آلود چہرہ) ہونے میں پوشیدہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے ’’ أجرك علی قدر نصبك ‘‘، یعنی ’ثواب مشقت کی مقدار کے مطابق ملتا ہے‘، اگر آپ کا سارا وقت ہوٹل کے کمروں کی آسائشوں، مختلف قسمہا قسم کے کھانوں کے انتخاب اور آرام و راحت کی بحث میں گزر گیا، تو آپ اس روحانی لذت سے محروم رہ جائیں گے جو مزدلفہ کی کھلی زمین پر سونے اور منیٰ کے خیموں کی تنگی میں پوشیدہ ہے، حج میں سہولیات تلاش کرنا عیب نہیں، لیکن سہولیات ہی کو مقصود بنالینا حج کے وقار کے خلاف ہے، اس وقت حجاج کے لیے سب سے بڑا امتحان موبائل فون اور سوشل میڈیا کا درست استعمال ہے، کعبۃ اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر دعا مانگنے کے بجائے تصویر کھنچوانا، اور طواف کے دوران ’لائیو‘آ کر دنیا کو دکھانا اخلاص کی جڑ کاٹ دیتا ہے، اللہ کے نبی ﷺ نے حج کے موقع پر یہ دعا فرمائی تھی جسے امام ابن ماجہ نے نقل کیا ہے "اللهم حجة لا رياء فيها ولا سمعة ،یعنی ’اے اللہ! ایسا حج نصیب فرما جس میں نہ دکھاوا ہو اور نہ شہرت طلبی‘، جب آپ ہر لمحے کی تصویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں، تو آپ کا حج ’اللہ کے لیے‘ رہنے کے بجائے’لوگوں کو دکھانے کے لیے‘بن جاتا ہے، یہ ڈیجیٹل ریاکاری اس خشوع و خضوع کو فنا کر دیتی ہے جو مقبول حج کی شرط ہے، یاد رکھیے! کعبہ کے سامنے آپ کا ’پوز‘ نہیں، بلکہ آپ کا’عجز‘ ) قبول ہوتا ہے۔
حرمین شریفین کا ایک ایک لمحہ کروڑوں سال کی زندگی سے زیادہ قیمتی ہے، وہاں کی ایک ایک نماز ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے ، ایسے میں حجاز مقدس جاکر وہاں گھنٹوں بازاروں میں گھومنا، سستی اشیاء کی خریداری کے لیے بحث و تکرار کرنا اور شاپنگ کے جنون میں تلاوت و طواف سے محروم رہنا بہت بڑی بدقسمتی ہے، قرآنِ کریم میں سورہ البقرہ میں واضح ارشاد ہے’’”فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ (البقرہ ) یعنی ’’حج کے دوران نہ فحش گوئی ہو، نہ گناہ اور نہ لڑائی جھگڑا، بازاروں کی رونقیں اور دنیاوی سامان ہر جگہ مل جاتا ہے، لیکن جو انوار و تجلیات حرم کی دیواروں سے پھوٹتے ہیں وہ دوبارہ میسر نہیں آئیں گے، اپنی ترجیحات درست کیجیے؛ آپ وہاں اللہ کے ’سائل‘بن کر گئے ہیں، ’خریدار‘ بن کر نہیں، حج صبر کا نام ہے، شدید گرمی، لاکھوں کا ہجوم، ٹریفک کا اژدہام اور مختلف مزاج کے لوگ آپ کے صبر کا امتحان لیں گے، ایسے میں دوسروں کو دھکا دینا، ہوٹل کے عملے سے جھگڑنا یا ساتھی حجاج پر غصہ کرنا آپ کے حج کو بے روح کر سکتا ہے، آپ وہاں ’ضیوف الرحمٰن (اللہ کے مہمان) ہیں، اللہ کے مہمانوں کی خدمت اور ان سے نرمی برتنا آپ کا اخلاقی فریضہ ہے، اگر آپ نے وہاں جاکر اپنے بھائی کے لیے ایثار نہیں کیا، تو آپ نے حج کے بڑے مقصد یعنی ’امتِ واحدہ‘ کے تصور کو ٹھیس پہنچائی، بخاری کی روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ’’والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة‘‘ (صحیح بخاری) یعنی حج مبرور (مقبول حج) کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں، علماء فرماتے ہیں کہ حجِ مبرور کی نشانی یہ ہے کہ واپسی پر انسان کی زندگی بدل جائے؛ وہ گناہوں سے بیزار ہو جائے اور اس کا دل دنیا کے بجائے آخرت کی طرف مائل ہو جائے، اے عازمِ حج! آپ اللہ کے منتخب کردہ مسافر ہیں،خدارا اپنے اس سفر کو تصویر بازی، ہوٹلوں کی زینت اور بازاروں کی نذر نہ کرنا، اپنے دل کو کعبہ بنا کر جائیں اور وہاں شاپنگ کے سامان نہیں بلکہ اللہ کی معرفت اور بخشش کا پروانہ لے کر آئیں کیوں کہ ’حج سیاحت نہیں، بندگی کی انتہا ہے‘،جو اسے سمجھ گیا، وہی کامیاب ہوگا، اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سبھی کو حج مقدس کے آفاقی پیغام کو سمجھنے کےتوفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
)مضمون نگار معروف عالم دین، مشہور مذہبی اسکالر، معلم حجاج، شریعہ ایڈوائزر، مصنف، کالم نگار ، صدر مفتی دارالافتاء والارشاد جامع مسجد بمبئی اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی و ڈائریکٹر ہیں(




