غزہ میں اسرائیلی توسیع پسندی کا نیا جال: ’یلو لائن‘ کے بعد اب ’اورنج لائن‘ کے نام پر مزید فلسطینی علاقوں پر قبضہ

غزہ پٹی: غزہ میں جاری جنگ بندی اور انسانی بحران کے درمیان اسرائیلی جارحیت اور توسیع پسندی کا ایک نیا باب کھل گیا ہے۔ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے تقریباً 200 دن مکمل ہونے کے بعد اب "اورنج لائن” نامی ایک نئی اصطلاح منظر عام پر آئی ہے، جسے مبصرین اسرائیلی فوج کی غزہ کے اندرونی علاقوں میں تازہ پیش قدمی اور مزید زمین پر قبضے کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ مغربی سفارت کاروں اور اقوام متحدہ کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں حماس کے زیرِ کنٹرول سمجھے جانے والے مزید علاقوں کو اپنے عسکری کنٹرول میں لے لیا ہے۔

اسرائیلی اخبار ’اسرائیل ہیوم‘ کی رپورٹ کے مطابق، ایک غیر ملکی سفارت کار نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ زمینی پیش رفت کے بعد اب نئی "اورنج لائن” نے سابقہ "یلو لائن” کی جگہ لینا شروع کر دی ہے۔ یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی برادری غزہ میں مستقل امن کی راہ دیکھ رہی ہے۔ سفارت کار کے مطابق، اسرائیل نے یہ دعویٰ کر کے اپنی پیش قدمی کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے کہ حماس نے اسلحہ چھوڑنے کے اپنے وعدے پورے نہیں کیے، جس کے جواب میں مزید سخت اقدامات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جنگ بندی کے ابتدائی معاہدے کے تحت "یلو لائن” وہ فرضی حد بندی تھی جو مشرقی جانب اسرائیلی فوج کے قبضے والے علاقوں اور مغربی جانب گنجان آباد فلسطینی حصوں کو الگ کرتی تھی۔ اس وقت اسرائیل کا کنٹرول غزہ کے تقریباً 53 فیصد رقبے پر تھا، لیکن حماس کے رہنما باسم نعیم کے مطابق، اسرائیل نے اس لائن کو مغرب کی جانب 8 سے 9 فیصد تک مزید دھکیل دیا ہے۔ اس توسیع کے بعد اب غزہ کا 60 فیصد سے زیادہ علاقہ براہِ راست اسرائیلی فوج کے بوٹوں تلے آ چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے "اورنج لائن” قائم کر کے اپنے قبضے کو وسعت دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے پاس وہ نقشے موجود ہیں جن میں اس نئی حد بندی کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ نقشے امدادی اداروں کو فراہم کر دیے گئے ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اب امدادی ٹیموں کو "اورنج لائن” عبور کرنے سے پہلے اسرائیلی حکام سے خصوصی اجازت لینی ہوگی، جس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی امداد کی فراہمی کو مزید مشکل اور محدود بنا دیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کی اس تازہ پیش قدمی اور نقشوں میں تبدیلی کے نتیجے میں خان یونس، غزہ شہر کے جنوب مشرقی علاقے محلہ زیتون اور جبالیہ بلدہ میں مقیم درجنوں فلسطینی خاندانوں کو ایک بار پھر اپنے خیمے اور گھر چھوڑ کر ہجرت کرنی پڑی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق، اس توسیع کے دوران اسرائیلی فوج نے فضائی حملوں اور توپ خانے کا بھی استعمال کیا، جس میں متعدد فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ یہ اقدامات واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل جنگ بندی کی آڑ میں غزہ کے جغرافیے کو مستقل طور پر تبدیل کرنے اور فلسطینی آبادی کو محصور ترین علاقوں میں دھکیلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

شیئر کریں۔