تمل ناڈو کا سیاسی بحران: گورنر کا ٹی وی کے کو حکومت سازی کی دعوت دینے سے انکار

تمل ناڈو کی سیاست میں ایک نیا اور غیر متوقع موڑ سامنے آیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، ریاست کے گورنر آر وی ارلیکر نے اداکار سے سیاستدان بننے والے وجے کی پارٹی تاملگا ویٹی کزگم (ٹی وی کے) کو حکومت بنانے کی دعوت دینے سے مبینہ طور پر انکار کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد آج سات مئی کو جواہر لعل نہرو انڈور اسٹیڈیم میں متوقع حلف برداری کی تقریب کے انعقاد کا امکان معدوم ہو گیا ہے۔

حالیہ اسمبلی انتخابات میں ٹی وی کے نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 34.92 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ ایک سو آٹھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور ریاست کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری۔ تاہم حکومت سازی کے لیے درکار ایک سو اٹھارہ نشستوں کی سادہ اکثریت سے پارٹی اب بھی دور ہے۔ وجے نے پیرمبور اور تروچیراپلی مشرقی دونوں حلقوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ ایک نشست خالی کرنے کی آئینی مجبوری کے باعث پارٹی کی موثر تعداد ایک سو سات رہ جائے گی، جس کے بعد انہیں اکثریت ثابت کرنے کے لیے مزید گیارہ ارکان اسمبلی کی حمایت درکار ہوگی۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹی وی کے نے کانگریس، دو کمیونسٹ پارٹیوں اور ودوتھلائی چروتھائیگل کچی (وی سی کے) سے رابطے کیے ہیں۔ دس سالہ پرانا اتحاد ختم کرنے کے بعد کانگریس نے دراوڑ منیترا کزگم کا ساتھ چھوڑ کر ٹی وی کے کی حمایت کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ گورنر ارلیکر پیر کو ترواننتا پورم سے چنئی پہنچے تھے، جس کے بعد وجے نے راج بھون میں ان سے ذاتی طور پر ملاقات کر کے حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا تھا۔ اس ملاقات کے تناظر میں حلف برداری کی تیاریاں شروع کر دی گئی تھیں۔

گورنر کے حالیہ فیصلے نے ریاست کے سیاسی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ حلف برداری میں تاخیر سے سیاسی بے یقینی پیدا ہو گئی ہے اور جوڑ توڑ کی سیاست عروج پر ہے۔ اتحادیوں کے حوالے سے وی سی کے کے صدر تھول تھرومالاوان نے واضح کیا ہے کہ حمایت کا حتمی فیصلہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں کی باہمی مشاورت سے ہوگا۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق وی سی کے کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس فی الحال منسوخ کر دیا گیا ہے، حالانکہ وجے نے ذاتی طور پر تھرومالاوان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے حمایت کی درخواست کی تھی۔

انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد سے ہی وی سی کے، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما مشترکہ حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق تھرومالاوان کا فیصلہ دونوں کمیونسٹ پارٹیوں کے سیاسی موقف کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ آنے والے چند روز تمل ناڈو کے سیاسی مستقبل اور نئی حکومت کے قیام کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے، جہاں عددی برتری ثابت کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان رسہ کشی مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔

شیئر کریں۔