مغربی بنگال اور آسام کے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی غیر متوقع اور حیرت انگیز فتح نے ملک کی سیاسی فضا میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھر ‘ووٹ چوری’ اور انتخابی عمل میں منظم دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے انتخابی نتائج کی شفافیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران مودی حکومت اور الیکشن کمیشن پر سخت لفظی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ "ابکی بار لوک تنتر کا اَنتم سنسکار” یعنی اس بار جمہوریت کی آخری رسومات ادا کر دی گئی ہیں۔
پون کھیڑا نے ملک کی موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کو اغوا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے راہل گاندھی کے سابقہ انتباہات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہریانہ، مہاراشٹر اور کرناٹک کے بعد اب مغربی بنگال اور آسام میں بھی ‘ووٹ چوری’، حد بندی (Delimitation) اور ایس آئی آر کو ہتھیار بنا کر انتخابی نتائج کو تبدیل کیا گیا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ یہ ایک سہ طرفہ حملہ ہے جس کا مقصد عوامی مینڈیٹ کو ہائی جیک کرنا ہے۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ جہاں جہاں بی جے پی نے ‘کیچڑ’ پھیلایا ہے، وہاں مصنوعی طور پر ‘کمل’ کھلایا گیا ہے، اور اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو یہ پورے ملک کے جمہوری ڈھانچے کو تباہ کر دے گا۔
الیکشن کمیشن کے کردار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ہیٹ اسپیچ اور انتخابی بے ضابطگیوں کی شکایات پر نوٹس لینے کے بجائے کمیشن خود اس سیاسی کھیل کا حصہ بن گیا ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے چوکیدار خود مبینہ طور پر دھاندلی کرنے والوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ جس طرح مہاراشٹر میں لاکھوں ووٹرز کے ناموں میں ہیر پھیر کیا گیا، اسی طرح مغربی بنگال اور آسام میں بھی مخصوص حکمت عملی کے تحت لاکھوں ووٹرز کو لسٹوں سے خارج کر دیا گیا تاکہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوا جا سکے۔
پریس کانفرنس کے دوران مغربی بنگال میں انتخابی نتائج کے بعد رونما ہونے والے پرتشدد واقعات کا ذکر بھی خاص طور پر کیا گیا۔ پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ فتح کے بعد بی جے پی کارکن خوشی منانے کے بجائے غنڈہ گردی پر اتر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین کے دفاتر نذرِ آتش کیے جا رہے ہیں، دکانوں میں توڑ پھوڑ ہو رہی ہے اور اشتعال انگیز گانے بجا کر خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے عہدے کے وقار کا خیال رکھتے ہوئے ریاست میں جاری اس تشدد کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کریں۔
کانگریس کا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ مغربی بنگال میں شکست کو محض ایک انتخابی ہار نہیں بلکہ جمہوری نظام کی ناکامی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ پون کھیڑا نے واضح کیا کہ اگرچہ کانگریس نے ترنمول کانگریس کے خلاف مضبوطی سے انتخاب لڑا تھا، لیکن جب بات اصولوں اور شفافیت کی آئی تو راہل گاندھی نے اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابی عمل کی خامیاں اجاگر کرنے کو ترجیح دی۔ آنے والے دنوں میں ‘ووٹ چوری’ کا یہ معاملہ پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔




