تمل ناڈو کی سیاست میں ایک تاریخی اور غیر متوقع موڑ سامنے آیا ہے جہاں کانگریس نے تمل سپر اسٹار وجئے کی نو تشکیل شدہ پارٹی ‘تملگا ویٹری کڑگم’ (ٹی وی کے) کو حکومت سازی کے لیے مشروط حمایت دینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج میں وجئے کی پارٹی نے حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اکثریت کے جادوئی نمبر 118 سے محض 10 سیٹیں پیچھے رہ کر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ اب کانگریس کے اس فیصلے کے بعد ریاست میں وجئے کی قیادت میں حکومت بننے کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
کانگریس کے تمل ناڈو انچارج گریش چوڈنکر نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ حمایت کچھ بنیادی اصولوں اور شرائط پر مبنی ہے۔ کانگریس نے وجئے کے سامنے چار اہم مطالبات رکھے ہیں جن میں سب سے اہم شرط یہ ہے کہ ‘ٹی وی کے’ کو ایسی تمام فرقہ پرست طاقتوں سے مکمل دوری اختیار کرنی ہوگی جو بھارتی آئین پر یقین نہیں رکھتیں۔ اس کے علاوہ نئی حکومت کو ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے وضع کردہ آئینی اصولوں اور تھنتھائی پیریار کے سماجی انصاف کے نظریات پر عمل پیرا ہونے کا عزم ظاہر کرنا ہوگا۔ کانگریس نے ریاست میں سابق وزیر اعلیٰ کامراج کے دورِ حکومت جیسی ترقی اور فخر کی واپسی کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
اس پیش رفت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ کانگریس نے طویل عرصے سے اپنے حلیف رہے ڈی ایم کے سے ناطہ توڑ کر وجئے کی پارٹی کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اتحاد صرف موجودہ حکومت سازی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دونوں جماعتوں نے آئندہ لوک سبھا، راجیہ سبھا اور مقامی بلدیاتی انتخابات بھی مل کر لڑنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس فیصلے نے قومی سطح پر ‘انڈیا بلاک’ کے مستقبل اور تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کی سیاسی پوزیشن پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ وجئے نے کانگریس قیادت سے باضابطہ طور پر حمایت کی درخواست کی تھی جس پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور تمل ناڈو کانگریس کمیٹی کے مابین تفصیلی مشاورت کے بعد گرین سگنل دیا گیا۔ کانگریس کا موقف ہے کہ تمل ناڈو کے عوام، بالخصوص نوجوانوں نے تبدیلی کے حق میں واضح مینڈیٹ دیا ہے اور وہ اس عوامی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ایک جمہوری اور ترقی پسند حکومت کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وجئے اور کانگریس کا یہ ملاپ ریاست میں ایک نئی سیاسی طاقت کو جنم دے سکتا ہے جو روایتی دراوڑی جماعتوں کے غلبے کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم ڈی ایم کے کا اس نئی صف بندی پر کیا ردعمل ہوگا اور مرکز میں اپوزیشن کے اتحاد پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس پر پوری ملک کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔




