فجیرہ پرہوئے حملہ میں بھارتی شہریوں کے زخمی ہونے پر نئی دہلی برہم

متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ میں واقع آئل انڈسٹری زون پر ہونے والے حالیہ ڈرون حملے نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس حملے میں کم از کم تین ہندوستانی شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جس پر حکومت ہند نے شدید برہمی اور سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ شہری آبادی اور معاشی ڈھانچے کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے اور بھارت اس بزدلانہ کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، پیر کے روز فجیرہ کے حساس تجارتی علاقے کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہاں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ مقامی سول ڈیفنس کی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا، تاہم اس دوران وہاں کام کرنے والے تین ہندوستانی شہری زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ یو اے ای میں مقیم ہندوستانی سفارت خانہ مقامی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مغربی ایشیا کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین سے تشدد کی راہ ترک کرنے کی اپیل کی ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے صرف بات چیت اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔ حکومت ہند نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم عالمی تجارتی گزرگاہ پر جہازوں کی بلا تعطل آمد و رفت کو یقینی بنانا عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے اور کسی بھی قسم کی مداخلت عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے چار میزائل داغے گئے تھے، جن میں سے تین کو جدید دفاعی نظام کے ذریعے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، جبکہ ایک میزائل سمندر میں جا گرا۔ یو اے ای حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے موصول ہونے والی خبروں پر یقین کریں۔ بھارت نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون پیش کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

شیئر کریں۔