ملک بھر کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والی سول سوسائٹی تنظیموں، انسانی حقوق کے گروپس اور باشعور شہریوں کے ایک وسیع اتحاد نے انتخابی فہرستوں کی جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیموں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مہم کو فوری طور پر روکا جائے کیونکہ یہ موجودہ شکل میں جمہوری شرکت کی بنیادوں کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہے۔
ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اتحاد نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کی نگرانی میں جاری اس عمل کا مقصد بظاہر ووٹر لسٹوں کی درستگی ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ الزام لگایا گیا ہے کہ اس مہم کی آڑ میں بڑی تعداد میں حقیقی اور اہل ووٹروں کے نام فہرستوں سے نکالے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر کمزور طبقات، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں، مہاجرین اور سماجی طور پر پسماندہ برادریوں پر پڑ رہا ہے، جن کے پاس اکثر اپنے دفاع کے لیے انتظامی وسائل موجود نہیں ہوتے۔
رپورٹس کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں شہریوں کو کسی بھی قسم کی پیشگی اطلاع یا معقول وجہ بتائے بغیر ووٹر لسٹوں سے خارج کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف انتظامی سطح پر بڑی غفلت کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ اتحاد نے اس پورے عمل میں شفافیت کی کمی، جوابدہی کے فقدان اور غیر یکساں طریقہ کار کو ایک سنگین قومی مسئلہ قرار دیا ہے۔
سول سوسائٹی کے اس اتحاد نے حکومت اور الیکشن کمیشن کے سامنے چند اہم مطالبات رکھے ہیں، جن میں ایس آئی آر کے عمل کو فوری روکنا، پورے معاملے کا آزادانہ اور جامع جائزہ لینا اور ان تمام اہل ووٹروں کے ناموں کی فوری بحالی شامل ہے جنہیں غلطی یا جان بوجھ کر خارج کیا گیا ہے۔ تنظیموں کا موقف ہے کہ ووٹ دینے کا حق محض ایک دفتری کارروائی نہیں بلکہ آئینی جمہوریت کا وہ ستون ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ معاملہ اب محض ایک تکنیکی بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے انتخابی اداروں کی غیر جانبداری اور ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ قانونی ماہرین اور سماجی کارکنوں نے اس حساس معاملے میں عدالتی مداخلت کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری کا عمل مکمل طور پر شفاف اور آئینی اصولوں کے مطابق ہو۔ اگر ان خدشات کو دور نہ کیا گیا تو مستقبل کے انتخابات کی ساکھ اور عوامی اعتماد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔




