کرناٹک کی سیاست میں اس وقت بڑا ارتعاش پیدا ہو گیا جب ریاستی اسمبلی نے دھارواڑ سے کانگریس کے قد آور لیڈر اور سابق وزیر ونے کلکرنی کو رکنیت سے نااہل قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ بنگلورو کی ایک خصوصی عدالت کی جانب سے انہیں بی جے پی لیڈر یوگیش گوڈا گوڈر کے قتل کیس میں مجرم قرار دیے جانے اور عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسمبلی سکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ونے کلکرنی کی نااہلی کا اطلاق 15 اپریل 2026 سے ہوگا، جو ان کی سزا کی تاریخ ہے۔
ونے کلکرنی کی نااہلی آئین ہند کی دفعہ 191 اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ قانون کے مطابق سزا مکمل ہونے کے بعد بھی وہ مزید چھ سال تک کسی بھی انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی 224 رکنی کرناٹک اسمبلی میں دھارواڑ کی نشست خالی ہوگئی ہے، جس پر اب جلد ہی ضمنی انتخاب کرائے جانے کی توقع ہے۔ یاد رہے کہ ونے کلکرنی 2023 کے انتخابات میں دھارواڑ سے کامیاب ہوئے تھے، حالانکہ اس وقت بھی ان پر ضلع میں داخلے کی پابندی عائد تھی۔
قتل کا یہ ہولناک واقعہ 15 جون 2016 کا ہے، جب دھارواڑ کے سپتا پور علاقے میں بی جے پی کے ضلع پنچایت ممبر یوگیش گوڈا کو ایک جم کے اندر کرائے کے قاتلوں نے بے رحمی سے قتل کر دیا تھا۔ 2019 میں اس کیس کی تحقیقات سی بی آئی (CBI) کے سپرد کی گئی تھیں، جس نے اپنی چارج شیٹ میں ونے کلکرنی کو اس قتل کا مرکزی سازش کار قرار دیا تھا۔ سی بی آئی کے مطابق سیاسی دشمنی اس قتل کی اصل وجہ تھی کیونکہ یوگیش گوڈا علاقے میں ونے کلکرنی کے لیے ایک بڑے سیاسی چیلنج کے طور پر ابھر رہے تھے۔
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ونے کلکرنی نے گواہوں کو متاثر کرنے اور ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش بھی کی تھی، جس کی وجہ سے گزشتہ سال ان کی ضمانت بھی منسوخ کر دی گئی تھی۔ اب عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد ان کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ کرناٹک حکومت کے لیے یہ صورتحال کافی مشکل ہے کیونکہ حال ہی میں ریاست کی دیگر دو نشستوں پر بھی ضمنی انتخابات ہوئے ہیں اور اب دھارواڑ کی صورت میں ایک اور محاذ کھل گیا ہے۔
ریاستی بی جے پی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے انصاف کی جیت قرار دیا ہے، جبکہ کانگریس کی قیادت فی الحال قانونی پہلوؤں پر غور کر رہی ہے۔ ونے کلکرنی کے پاس اب اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنے کا آپشن موجود ہے، لیکن اگر وہاں سے بھی سزا پر روک نہیں لگتی تو دھارواڑ میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔




