گؤ رکشکوں کے حملہ کا شکار نوجوان کی لاش 20دن بعد بازیافت

جموں و کشمیر کے ضلع رامبن میں گزشتہ بیس دنوں سے جاری ایک کرب ناک انتظار اس وقت ختم ہوا جب نالہ بشلری سے 19 سالہ نوجوان تنویر احمد چوپان کی لاش برآمد ہوئی۔ یہ نوجوان 12 اپریل کو اس وقت لاپتہ ہو گیا تھا جب مبینہ طور پر کچھ شدت پسند عناصر یعنی ‘گؤ رکشکوں’ نے اس کا تعاقب کیا، جس سے جان بچانے کی کوشش میں اس نے مکرکوٹ کے قریب نالے میں چھلانگ لگا دی تھی۔ ہفتہ کے روز ڈگڈول کے مقام پر ریسکیو ٹیموں کو لاش نظر آئی، جس کے بعد بڑے پیمانے پر جاری تلاشی مہم اختتام پذیر ہوئی۔

متوفی تنویر احمد ساکنہ منڈکھل پوگل، جموں سے اپنی ایک دودھ دینے والی گائے اور دو بچھڑوں کو گاڑی میں لے کر گھر جا رہا تھا۔ سرینگر جموں قومی شاہراہ پر ڈگڈول کے قریب دو کاروں میں سوار افراد نے اس کی گاڑی کو زبردستی روکا اور اسے ہراساں کرنا شروع کیا۔ عینی شاہدین اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق جان کے خوف اور ہجوم کے تشدد سے بچنے کے لیے تنویر نے قریب بہتے نالہ بشلری میں چھلانگ لگا دی، جس کے بعد وہ تیز لہروں کی نذر ہو گیا۔

اس واقعے کے فوراً بعد مقامی سطح پر احتجاج شروع ہوا اور پولیس نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے این ڈی آر ایف، فوج اور مقامی رضاکاروں کی مدد سے تلاشی آپریشن شروع کیا تھا۔ پہاڑی علاقہ اور نالے کا تیز بہاؤ ہونے کی وجہ سے لاش کی تلاش میں تین ہفتے لگ گئے۔ ہفتہ کے روز جب لاش نکالی گئی تو طویل عرصہ پانی میں رہنے کے باعث وہ کافی حد تک خراب ہو چکی تھی۔ پولیس نے ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے جسد خاکی کو اسپتال منتقل کر دیا ہے۔

جموں کشمیر پولیس نے اس معاملے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے چار کلیدی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جن کی شناخت سرجیت سنگھ، سندیپ سنگھ، دگ وجے سنگھ اور کیول سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔ یہ تمام ملزمان رامبن اور اس کے گردونواح کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔ واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی ہے جس کی نگرانی ایس ڈی پی او بنیہال کر رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

نوجوان کی موت پر پوگل اور رامبن کے علاقوں میں شدید غم و غصہ اور سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ تنویر کوئی مجرم نہیں تھا بلکہ اپنے گھر کے لیے مویشی لے جا رہا تھا، اسے محض شک کی بنیاد پر موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا۔ مقامی سماجی تنظیموں اور سیاسی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بے گناہ کی جان اس طرح کی انتہا پسندی کی بھینٹ نہ چڑھے۔

شیئر کریں۔