کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں بدھ کی شام ہونے والی موسلا دھار بارش اور ژالہ باری نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 8 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ سب سے بڑا حادثہ بورنگ اینڈ لیڈی کرزن میڈیکل کالج کے قریب پیش آیا جہاں ایک ملحقہ عمارت کی بھاری بھرکم دیوار گرنے سے ایک بچے سمیت سات افراد کی ملبے تلے دب کر موت واقع ہوگئی ۔ یہ لوگ بارش سے بچنے کے لیے دیوار کے سائے میں پناہ لیے ہوئے تھے کہ اچانک یہ حادثہ پیش آ گیا۔
ریاستی حکومت نے اس المیہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سدارمیا نے متاثرہ مقام کا دورہ کرتے ہوئے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے فی کس 5 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے میڈیا کو بتایا کہ شہر کے مختلف حصوں میں بارش سے متعلقہ واقعات میں مجموعی طور پر 8 اموات ہوئی ہیں جن میں ویگا سٹی مال کے قریب ہونے والی ایک ہلاکت بھی شامل ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم ریلیف فنڈ سے متوفین کے خاندانوں کو 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے دینے کا حکم دیا ہے۔
بارش کے دوران ایک اور افسوسناک واقعہ جے پی نگر تھانہ حدود میں پیش آیا جہاں 30 سے 35 سال کی عمر کا ایک شخص بجلی کے کھمبے سے کرنٹ لگنے کے باعث ہلاک ہو گیا۔ محکمہ بجلی کے حکام اور پولیس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق دیوار گرنے کے واقعے میں جاں بحق ہونے والوں میں سڑک کنارے ریڑھی لگانے والے اور راہگیر شامل تھے جن میں سے دو کا تعلق پڑوسی ریاست کیرلا سے بتایا جاتا ہے۔
شہر میں بنیادی ڈھانچے کی صورتحال اس وقت انتہائی ابتر نظر آئی جب ودھان سودھا جیسے اہم سرکاری دفاتر میں بھی پانی داخل ہو گیا۔ رچمنڈ ٹاؤن اور شانتی نگر جیسے علاقوں میں کمر تک پانی جمع ہونے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ گریٹر بنگلور اتھارٹی کے مطابق شہر میں 50 سے زائد مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے بعد فائر بریگیڈ اور ہنگامی خدمات کے عملے کو ملبہ ہٹانے اور راستہ صاف کرنے کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔
اپوزیشن لیڈروں نے اس حادثے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے پرانے ڈھانچوں کی دیکھ بھال میں غفلت کا الزام عائد کیا ہے اور عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے کی مکمل انکوائری کی جائے گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ فی الحال میونسپل حکام نے شہر بھر میں خطرناک عمارتوں اور سیلاب زدہ علاقوں کی نئے سرے سے نشان دہی شروع کر دی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔




