آندھرا پردیش کی حکمران جماعت تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) نے اپنی تنظیمی ساخت میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے نئی انتظامی کمیٹیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی کے سربراہ اور وزیراعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے بدھ کے روز ان نئی ٹیموں کو حلف دلایا، جس میں سب سے اہم پیش رفت آئی ٹی وزیر نارا لوکیش کی بطور کارگزار صدر تقرری ہے۔ اس فیصلے کو پارٹی کے اندر نوجوان قیادت کو آگے لانے اور مستقبل کی سیاست کے لیے صف بندی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائیڈو نے واضح کیا کہ نئی ٹیم کی تشکیل میں تجربہ کار سیاست دانوں اور پرجوش نوجوانوں کے درمیان ایک بہترین توازن برقرار رکھا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں ‘کیڈر ہی لیڈر ہے’ کے اصول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ زمینی سطح پر محنت کرنے والے کارکنوں کی قدر کی ہے اور اسی بنیاد پر انہیں اہم عہدوں سے نوازا گیا ہے۔ 44 سال پرانی اس سیاسی جماعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کئی مراحل پر مشتمل مشاورت کی گئی تاکہ پرانے رہنماؤں کے احترام اور نئے خون کی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ نائیڈو نے پارٹی کارکنوں کو نصیحت کی کہ وہ عوام سے جڑے رہیں اور کسی بھی قسم کے تکبر یا داخلی اختلافات سے گریز کریں، کیونکہ پارٹی کا اصل اثاثہ عوام کا بھروسہ ہے۔
حکومتی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے چندرابابو نائیڈو نے کہا کہ امراوتی اور پولاورم جیسے میگا پروجیکٹس پر کام کی رفتار تیز کر دی گئی ہے۔ انہوں نے وشاکھاپٹنم اسٹیل پلانٹ کے حوالے سے ریاست کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اسے دوبارہ منافع بخش بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالے بغیر نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور نرخوں میں کمی لانے کی ہر ممکن کوشش جاری ہے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔
سیاسی محاذ پر انہوں نے اپوزیشن جماعت وائی ایس آر کانگریس پر سخت تنقید کی اور الزام لگایا کہ مخالفین ترقیاتی کاموں میں رکاوٹیں ڈالنے اور جھوٹی معلومات پھیلانے کی سازش کر رہے ہیں۔ نائیڈو نے کہا کہ ٹی ڈی پی کا ایجنڈا صرف اور صرف گڈ گورننس اور ترقی ہے، جبکہ اپوزیشن کے پاس کوئی تعمیری پروگرام نہیں ہے۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو آنے والے مقامی انتخابات کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی اور امید ظاہر کی کہ ترقیاتی کاموں کی بنیاد پر عوام ایک بار پھر ٹی ڈی پی اور اس کے اتحادیوں پر اعتماد کا اظہار کریں گے۔




