سوڈان غذائی بحران ، لوگ پتے اور جانوروں کا چارہ کھانے پرمجبور : رپورٹ


سوڈان اس وقت ایک شدید انسانی بحران سے گزر رہا ہے جہاں لاکھوں افراد کو دن میں صرف ایک وقت کا کھانا نصیب ہو رہا ہے۔ غیر سرکاری تنظیموں کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق ملک میں خوراک کی قلت خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اس کے مزید پھیلنے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ جاری خانہ جنگی نے حالات کو اس حد تک بگاڑ دیا ہے کہ عام شہری بھوک اور محرومی کا شکار ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری تنازع اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکا ہے، جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور خوراک کی فراہمی کا نظام تقریباً مفلوج ہو گیا ہے۔ ایکشن اگینسٹ ہنگر، کیئر انٹرنیشنل، انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی، مرسی کور اور نارویجن ریفیوجی کونسل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خاص طور پر شمالی دارفور اور جنوبی کردفان جیسے علاقوں میں صورتحال انتہائی سنگین ہے، جہاں بیشتر خاندان دن میں صرف ایک بار کھانا کھا رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ کئی افراد کو تو پورا دن بغیر کچھ کھائے گزارنا پڑتا ہے، جبکہ کچھ لوگ زندہ رہنے کے لیے درختوں کے پتے اور جانوروں کا چارہ کھانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یہ منظر نامہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک میں غذائی بحران کس حد تک گہرا ہو چکا ہے اور عام زندگی کس قدر متاثر ہوئی ہے۔

پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو سوڈان میں جاری سیاسی اور عسکری کشمکش نے ریاستی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔ حکومت جہاں قحط کی موجودگی سے انکار کر رہی ہے، وہیں ریپڈ سپورٹ فورسز بھی اپنے زیر اثر علاقوں میں ان حالات کی ذمہ داری قبول نہیں کر رہیں۔ اس کشمکش کے باعث امدادی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں اور عالمی برادری کی کوششیں مطلوبہ نتائج نہیں دے پا رہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے انسانی ضروریات اور ردعمل کے منصوبے کے تحت سوڈان کی تقریباً 61.7 فیصد آبادی، یعنی لگ بھگ 2 کروڑ 89 لاکھ افراد، شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ گزشتہ سال نومبر میں عالمی سطح پر بھوک کی نگرانی کرنے والے ادارے نے پہلی بار الفاشر اور کادقلی جیسے علاقوں میں قحط کی تصدیق بھی کی تھی، جو اس بحران کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔

اس صورتحال کے اثرات نہایت تشویشناک ہیں، جہاں ایک طرف لاکھوں افراد بھوک سے نبرد آزما ہیں، وہیں دوسری طرف بچوں اور خواتین کی صحت پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے اور انسانی المیہ مزید گہرا ہو سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سوڈان میں جاری جنگ اور غذائی بحران نے ایک ایسا انسانی سانحہ جنم دیا ہے جس کے اثرات صرف اس ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے نتائج محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

شیئر کریں۔