مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے انڈین پی اے سی کنسلٹنگ پرائیویٹ لمیٹڈ (آئی پیک) کے ڈائریکٹر ونیش چندیل کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاری منی لانڈرنگ انسداد قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت جاری تحقیقات کے سلسلے میں عمل میں آئی، جس کے بعد عدالت نے انہیں فوری طور پر 10 دن کی ای ڈی تحویل میں بھیج دیا۔ اس کارروائی نے انتخابی ماحول میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ای ڈی نے دہلی پولیس کی ایف آئی آر کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی تھیں، جس میں آئی پیک کے مالی لین دین میں سنگین بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آئے۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ کمپنی کے ذریعے اکاؤنٹڈ اور غیر حساب شدہ فنڈز کی وصولی، بغیر لائسنس غیر محفوظ قرضوں کا حصول، جعلی بل اور رسیدوں کا اجرا، تیسرے فریق کے ذریعے فنڈز کی منتقلی اور بین الاقوامی حوالہ کے ذریعے نقد لین دین جیسے طریقے استعمال کیے گئے۔ ای ڈی کے مطابق اب تک تقریباً 50 کروڑ روپے کی مشتبہ رقم برآمد کی جا چکی ہے۔
تحقیقات کے دوران مختلف افراد کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے اور کئی مقامات پر تلاشی کے دوران قابل اعتراض دستاویزات ضبط کیے گئے۔ ای ڈی کا کہنا ہے کہ ان شواہد کی بنیاد پر ونیش چندیل کا کردار سامنے آیا، جو نہ صرف کمپنی کے بانی ڈائریکٹر ہیں بلکہ 33 فیصد شیئر کے حامل بھی ہیں۔ قانون کے مطابق اگر کسی کمپنی میں جرم اس کے ذمہ داران کی رضامندی یا لاپرواہی سے انجام دیا جائے تو وہ براہ راست ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔
گرفتاری کے بعد ونیش چندیل کو دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں پیر کی رات دیر تک سماعت جاری رہی۔ ایڈیشنل سیشن جج شیفالی برنالہ ٹنڈن نے ای ڈی کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں 10 دن کے لیے تحویل میں دے دیا، تاکہ مزید پوچھ گچھ اور تحقیقات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
سیاسی سطح پر اس کارروائی نے تنازع کو جنم دے دیا ہے۔ ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر ابھیشیک بنرجی نے اس گرفتاری پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے محض چند دن قبل اس طرح کی کارروائی نہ صرف مشکوک ہے بلکہ جمہوری عمل پر سوالیہ نشان بھی کھڑا کرتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن سے وابستہ افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو آزاد اور منصفانہ انتخابات کے اصول کے خلاف ہے۔
موجودہ صورتحال میں یہ معاملہ نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی رخ بھی اختیار کر چکا ہے۔ ایک طرف ای ڈی اپنی کارروائی کو قانون کے مطابق قرار دے رہی ہے، تو دوسری جانب اپوزیشن اسے سیاسی دباؤ کا ہتھیار بتا رہی ہے۔ ایسے میں بنگال کے انتخابی ماحول پر اس کے اثرات گہرے ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔




