دو دہائیوں کی حکمرانی کا خاتمہ،نتیش کمارکاوزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ


بہار کی سیاست میں آج ایک بڑا اور تاریخی موڑ اس وقت سامنے آیا جب وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے 14 اپریل کو گورنر کو اپنا استعفیٰ پیش کیا، جس کے بعد ریاست میں نئی قیادت کے انتخاب کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آج ہی کسی بھی وقت نئے وزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان کیا جا سکتا ہے، جس سے ریاستی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز متوقع ہے۔

تفصیلات کے مطابق نتیش کمار نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ راج بھون پہنچے اور باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ گورنر کے حوالے کیا۔ اس اقدام کے ساتھ ہی بہار میں تقریباً دو دہائیوں تک جاری رہنے والی ان کی حکمرانی کا اختتام ہو گیا۔ استعفیٰ کے بعد جاری اپنے بیان اور سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے دور حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔

نتیش کمار نے کہا کہ 2005 میں این ڈی اے حکومت کے قیام کے بعد سے ریاست میں قانون کی بالادستی قائم ہوئی اور مسلسل ترقیاتی کام انجام دیے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے تمام طبقات کے لیے بلا امتیاز کام کیا، جن میں ہندو، مسلم، پسماندہ طبقات، دلت اور مہادلت شامل ہیں۔ تعلیم، صحت، سڑک، بجلی اور زراعت جیسے شعبوں میں نمایاں ترقی کا بھی انہوں نے حوالہ دیا، جبکہ خواتین اور نوجوانوں کے لیے کیے گئے اقدامات کو بھی اپنی حکومت کی اہم کامیابی قرار دیا۔

اپنے مستقبل کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2025 سے 2030 کے لیے “سات نشچے-3” پروگرام ترتیب دیا گیا ہے، جس کے تحت ریاست میں مزید ترقیاتی کام کیے جائیں گے۔ انہوں نے مرکزی حکومت کے تعاون کا بھی اعتراف کیا اور وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔ ان کے مطابق بہار آنے والے وقت میں تیزی سے ترقی کرے گا اور ملک کی صف اول کی ریاستوں میں شامل ہوگا۔

سیاسی پس منظر میں دیکھا جائے تو نتیش کمار کا استعفیٰ بہار کی سیاست میں ایک بڑے بدلاؤ کی علامت ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے وہ ریاست کی سیاست کا مرکزی چہرہ رہے ہیں اور مختلف اتحادوں کے ساتھ اقتدار میں رہے۔ ان کے اچانک استعفیٰ نے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے، جبکہ نئی قیادت کے انتخاب کو لے کر بھی مختلف نام زیر بحث ہیں۔

اس استعفیٰ کے اثرات نہ صرف ریاستی سیاست بلکہ قومی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ بہار ایک اہم سیاسی ریاست ہونے کے ناطے یہاں کی قیادت میں تبدیلی آئندہ انتخابات اور سیاسی اتحادوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ عوام اور سیاسی مبصرین کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ نئی حکومت کس سمت میں کام کرے گی اور کیا وہ ترقی کے اسی سلسلے کو آگے بڑھا پائے گی۔

آخر میں نتیش کمار نے اپنے فیصلے کو ایک طے شدہ قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نئی حکومت کو مکمل تعاون فراہم کریں گے اور رہنمائی جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہار کی ترقی کا سفر جاری رہے گا اور ریاست مزید آگے بڑھے گی۔ ان کے اس اعلان کے ساتھ ہی ایک طویل سیاسی دور کا اختتام اور ایک نئے باب کا آغاز ہو چکا ہے۔

شیئر کریں۔