غزہ اور لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں کے خلاف یورپ میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، جہاں ہفتہ کے روز Berlin اور Milan میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے اسرائیلی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر مداخلت کی اپیل کی۔
تفصیلات کے مطابق برلن میں مظاہرین نے شہر کی اہم سڑکوں پر بڑے پیمانے پر مارچ کیا۔ شرکاء کے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم اور مختلف پلے کارڈز تھے جن پر جنگ بندی، انسانی حقوق کے تحفظ اور فلسطینیوں کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اسرائیلی حملوں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی طاقتوں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر پولیس نے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے، تاہم احتجاج مجموعی طور پر پرامن رہا۔
دوسری جانب میلان میں بھی بڑی تعداد میں افراد جمع ہوئے اور فلسطین کے حق میں آواز بلند کی۔ مظاہرین نے غزہ اور لبنان میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھائے۔ اس احتجاج میں انسانی حقوق کے کارکنان، سماجی تنظیمیں اور مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے، جنہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔
یہ مظاہرے دراصل یورپ بھر میں جاری ایک وسیع احتجاجی لہر کا حصہ ہیں، جہاں مختلف ممالک میں عوام اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی ممالک میں عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومتوں پر بھی پالیسی سطح پر فیصلے کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ان مظاہروں کے اثرات نہ صرف یورپی سیاست بلکہ عالمی سفارتی منظرنامے پر بھی پڑنے کے امکانات ہیں، کیونکہ بڑھتی ہوئی عوامی رائے حکومتوں کو اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے پر زیادہ واضح اور مؤثر موقف اختیار کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
آخر میں یہ احتجاج اس بات کی علامت ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ اب صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے، اور دنیا بھر میں عوام انصاف اور امن کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کر رہے ہیں۔




