بنگال انتخابات: ہمایوں کبیر کے خلاف مقدمہ درج، مبینہ ’بی جے پی ڈیل‘ ویڈیو پر تنازع


مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی ماحول اس وقت مزید گرم ہو گیا جب سابق وزیر اور معطل ٹی ایم سی ایم ایل اے Humayun Kabir کے خلاف ایک متنازع ویڈیو کے معاملے میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اس ویڈیو میں مبینہ طور پر انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ 1000 کروڑ روپے کی ڈیل کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد ریاستی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مغربی بنگال پولیس نے بیر بھوم ضلع کے سوری تھانے میں یہ مقدمہ درج کیا، جو راشٹریہ الپ سنکھیاک آرکشن مورچہ کے قومی صدر کی شکایت پر مبنی ہے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ ہمایوں کبیر نے اس ویڈیو کے ذریعے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے اور انتخابات سے قبل امن و امان کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ویڈیو ترنمول کانگریس کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے کے بعد تیزی سے وائرل ہوئی۔

ویڈیو میں مبینہ طور پر ہمایوں کبیر یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ انہوں نے اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک خفیہ معاہدہ کیا ہے جس کا مقصد Mamata Banerjee کی حکومت کو گرانا اور مسلم ووٹروں کو گمراہ کرنا ہے۔ اس دعوے نے انتخابی ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔

تاہم ہمایوں کبیر نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ویڈیو دراصل مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ ایک ڈیپ فیک ہے اور ان کے خلاف سیاسی سازش کا حصہ ہے۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی اس معاملے سے خود کو الگ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پارٹی کا ہمایوں کبیر سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ مرکزی وزیر داخلہ Amit Shah نے بھی ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا۔

اس تنازع کے اثرات سیاسی اتحادوں پر بھی پڑے ہیں، جہاں All India Majlis-e-Ittehadul Muslimeen نے فوری طور پر ہمایوں کبیر کی جماعت عام جنتا انّیّن پارٹی سے اپنا اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے نے انتخابی صف بندی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

پس منظر میں دیکھا جائے تو مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 23 اپریل اور 29 اپریل کو دو مرحلوں میں ہونے جا رہے ہیں، جبکہ نتائج کا اعلان 4 مئی کو کیا جائے گا۔ ایسے حساس وقت میں اس طرح کے تنازعات نہ صرف سیاسی درجہ حرارت کو بڑھا رہے ہیں بلکہ ووٹروں کے رجحانات پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر ڈیپ فیک ویڈیوز، اب سیاست میں ایک نئے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہی ہیں، جہاں حقیقت اور پروپیگنڈہ کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

شیئر کریں۔