حکومت ہند نے ہفتہ کے روز ایک اہم اقتصادی فیصلہ کرتے ہوئے ڈیزل اور ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) پر ایکسپورٹ ڈیوٹی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق ڈیزل پر برآمدی ٹیکس کو ۲۱ روپے ۵۰ پیسے فی لیٹر سے بڑھا کر ۵۵ روپے ۵۰ پیسے فی لیٹر کر دیا گیا ہے، جبکہ اے ٹی ایف پر یہ ڈیوٹی ۲۹ روپے ۵۰ پیسے سے بڑھا کر ۴۲ روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ تاہم پیٹرول پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اس پر بدستور صفر ایکسپورٹ ڈیوٹی برقرار رکھی گئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں غیر یقینی اتار چڑھاؤ کے پیش نظر لیا گیا ہے، تاکہ ملک کے اندر ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ سرکاری بیان میں واضح کیا گیا کہ اس اقدام کا مقصد محض ریونیو بڑھانا نہیں بلکہ یہ روکنا ہے کہ برآمد کنندگان بین الاقوامی اور مقامی قیمتوں کے فرق کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔
یہ فیصلہ دراصل ونڈ فال ٹیکس فریم ورک کا حصہ ہے، جس کے تحت حکومت وقتاً فوقتاً ایندھن کی برآمد پر عائد ٹیکس میں رد و بدل کرتی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد ریفائنریوں کے منافع اور ملک کی اندرونی ضروریات کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے، تاکہ نہ تو صنعت کو نقصان ہو اور نہ ہی عوام کو ایندھن کی قلت کا سامنا کرنا پڑے۔
ادھر حکومت ایوی ایشن ٹربائن فیول پر ریاستوں کی جانب سے عائد ویلیو ایڈڈ ٹیکس (ویٹ) میں کمی کے امکانات پر بھی غور کر رہی ہے۔ شہری ہوا بازی کی وزارت اس سلسلے میں مختلف ریاستی حکومتوں اور متعلقہ محکموں سے مشاورت کر رہی ہے۔ مہاراشٹر اور دہلی جیسے بڑے شہروں میں زیادہ ٹیکس کے باعث اے ٹی ایف کی قیمتیں خاصی بلند ہیں، جس کا براہ راست اثر فضائی سفر کے کرایوں پر پڑتا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت ایئرپورٹ فیس میں کمی کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے اور اس حوالے سے ایئرپورٹ آپریٹرز سے بات چیت کا منصوبہ ہے۔
پس منظر میں دیکھا جائے تو مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔ اسی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے ۲۶ مارچ کو بھی ڈیزل اور اے ٹی ایف پر ایکسپورٹ ڈیوٹی نافذ کی تھی، تاکہ ملکی سپلائی کو مستحکم رکھا جا سکے اور غیر معمولی منافع خوری کو روکا جا سکے۔
مزید برآں، ۲۸ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں بے چینی مزید بڑھ گئی، جس کے اثرات اب تک برقرار ہیں۔ اگرچہ ۸ اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی معاہدہ طے پایا، جس سے وقتی ریلیف ملا، تاہم ماہرین کے مطابق صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ایسے میں حکومت نے احتیاطی تدابیر کے طور پر ملکی ضروریات کو ترجیح دیتے ہوئے یہ سخت فیصلہ لیا ہے۔
اس فیصلے کے اثرات نہ صرف ایندھن کے شعبے بلکہ فضائی صنعت اور عام صارفین تک پہنچنے کا امکان ہے، کیونکہ اے ٹی ایف کی قیمتوں میں تبدیلی کا براہ راست اثر ہوائی کرایوں پر پڑ سکتا ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمتیں ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی لاگت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
آخرکار یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت عالمی حالات کے پیش نظر داخلی معیشت اور توانائی کی سلامتی کو ترجیح دے رہی ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے ملک کو تیار رکھا جا سکے۔




