لکھنؤ ایئرپورٹ پر اتوار کے روز ایک غیر معمولی صورتحال اس وقت پیدا ہو گئی جب دبئی جانے والے 54 مسافروں کو پرواز سے عین قبل طیارے سے اتار دیا گیا۔ یہ تمام مسافر سعودی ایئرلائنز کی پرواز نمبر ایس وی 893 میں سوار تھے، جو لکھنؤ سے جدہ کے لیے روانہ ہونے والی تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ان مسافروں کا حتمی مقصد دبئی پہنچنا تھا، لیکن سعودی عرب سے دبئی جانے والی کنیکٹنگ پرواز اچانک منسوخ ہو جانے کے باعث انہیں لکھنؤ میں ہی روک دیا گیا۔
ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق جیسے ہی یہ واضح ہوا کہ جدہ سے دبئی جانے والی اگلی پرواز دستیاب نہیں ہوگی، متعلقہ حکام نے فیصلہ کیا کہ ان مسافروں کو طیارے سے اتار دیا جائے تاکہ وہ غیر یقینی صورتحال کا شکار نہ ہوں۔ تاہم اس اچانک فیصلے نے مسافروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا، خاص طور پر اس لیے کہ انہیں ریفنڈ یا متبادل انتظامات کے بارے میں فوری اور واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث کئی مسافر مایوسی اور بے چینی کا شکار نظر آئے۔
اسی دوران لکھنؤ ایئرپورٹ پر ایک اور اہم واقعہ بھی پیش آیا، جب دبئی سے کاٹھمنڈو جانے والی ’فلائی دبئی‘ کی پرواز نمبر ایف زیڈ 1133 کو ایندھن کی کمی کے سبب ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔ یہ پرواز شام تقریباً 8 بج کر 22 منٹ پر بحفاظت اتاری گئی، جس میں 154 مسافر سوار تھے۔ ایئرپورٹ حکام کے مطابق یہ فیصلہ مکمل طور پر حفاظتی اقدامات کے تحت لیا گیا۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی فضائی نظام پر واضح طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ہندوستان میں بھی اس کے اثرات دیکھنے کو مل رہے ہیں، جہاں پروازوں کی منسوخی، تاخیر اور ہنگامی لینڈنگ جیسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی لکھنؤ ایئرپورٹ پر متعدد ہنگامی لینڈنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں تکنیکی خرابیوں اور دھوئیں کی وارننگ جیسے مسائل سامنے آئے تھے۔
ان واقعات کے اثرات نہ صرف مسافروں پر بلکہ ایئرلائنز اور ایئرپورٹ انتظامیہ پر بھی پڑ رہے ہیں۔ مسافروں کو غیر یقینی صورتحال، اضافی اخراجات اور سفری منصوبوں میں اچانک تبدیلی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ ایئرلائنز کو اپنے آپریشنز کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
مجموعی طور پر یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی سیاسی و عسکری کشیدگی کا براہ راست اثر عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، خاص طور پر فضائی سفر پر پڑ رہا ہے، اور آئندہ دنوں میں اس طرح کے مزید واقعات کا امکان بھی خارج از امکان نہیں۔




