مرکزی حکومت اور دہلی پولیس نے Delhi High Court کو بتایا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (formerly Twitter) کی جانب سے صحافی Rana Ayyub کی مبینہ اشتعال انگیز پوسٹس کو عدالتی احکامات کے باوجود نہ ہٹانا، بھارت میں اس کے ’’سیف ہاربر‘‘ تحفظ کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔ حکومت نے واضح کیا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 79 کے تحت حاصل یہ تحفظ ختم ہونے کی صورت میں پلیٹ فارم کو متعلقہ مواد کے لیے براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
یہ معاملہ جسٹس پرشویندرا کمار کوراو کی عدالت میں زیر سماعت ہے، جہاں وکیل امیتا سچدیوا کی درخواست پر کارروائی جاری ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ رعنا ایوب کی جانب سے 2013 سے 2017 کے درمیان کی گئی چھ سوشل میڈیا پوسٹس، جن میں ہندو دیوی دیوتاؤں اور ہندوتوا نظریہ دان وی ڈی ساورکر سے متعلق مواد شامل ہے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہیں اور انہیں ہٹایا جانا چاہیے۔
عدالت نے اس سے قبل دہلی پولیس اور ایکس کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس معاملے میں فوری کارروائی کریں۔ عدالت نے کہا تھا کہ یہ معاملہ نہایت سنجیدہ نوعیت کا ہے اور اس میں حکومت، پولیس اور پلیٹ فارم کو مشترکہ طور پر ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ عدالت نے ایوب، ایکس اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔
حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامے میں کہا گیا کہ پولیس نے ستمبر اور دسمبر میں ایکس کو نوٹس جاری کیے تھے، جبکہ جنوری 2025 میں ایک ٹرائل کورٹ نے بھی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان اقدامات کو ’’حقیقی علم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ 2021 کے آئی ٹی قواعد کے تحت ایکس پر لازم تھا کہ وہ فوری طور پر متنازع مواد کو ہٹا دے، مگر ایسا نہیں کیا گیا، جو کہ قانونی ذمہ داری کی خلاف ورزی ہے۔
حکومت کے مطابق اگر کوئی انٹرمیڈیری ’’حقیقی علم‘‘ کے باوجود کارروائی نہ کرے تو وہ اپنے سیف ہاربر تحفظ سے محروم ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں پلیٹ فارم کو صارف کے مواد کے لیے بھی جواب دہ بنایا جا سکتا ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ ایکس کی جانب سے غیر فعالیت نے مبینہ غیر قانونی مواد کے تسلسل کو ممکن بنایا۔
دوسری جانب ایکس نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواست اس کے خلاف قابل سماعت نہیں ہے بلکہ اسے اس صارف کے خلاف ہونا چاہیے جس نے مواد اپ لوڈ کیا۔ پلیٹ فارم نے یہ بھی کہا کہ دہلی پولیس کو انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 69A کے تحت کارروائی کرنی چاہیے، جو حکومت کو قومی سلامتی اور عوامی نظم کے مفاد میں آن لائن مواد بلاک کرنے کا اختیار دیتی ہے۔
رعنا ایوب نے پہلے ہی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی پوسٹس کسی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتیں اور ان کے خلاف کارروائی دراصل انہیں ڈرانے اور ان کی آواز دبانے کی کوشش ہے۔ ان کے وکیل نے بھی عدالت میں درخواست کی قابل سماعت ہونے پر سوال اٹھایا ہے۔
عدالت نے رعنا ایوب کو دو ہفتوں میں اپنا جواب داخل کرنے کی مہلت دی ہے، جبکہ کیس کی اگلی سماعت 19 مئی کو مقرر کی گئی ہے۔ یہ مقدمہ بھارت میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری اور قانونی دائرہ کار سے متعلق ایک اہم نظیر بن سکتا ہے۔
