اتر پردیش کے شہر وارانسی میں دریائے گنگا کے درمیان ایک مذہبی جلوس کے دوران شراب نوشی اور اونچی آواز میں ڈی جے پر رقص کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے، تاہم تاحال پولیس کی جانب سے کسی واضح کارروائی کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ واقعہ چیترا نو راتری کے بعد نکالی گئی ایک شوبھا یاترا کے دوران پیش آیا، جسے منجھی برادری نے منعقد کیا تھا۔
وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کشتی پر سوار کچھ افراد نہ صرف شراب نوشی کر رہے ہیں بلکہ تیز موسیقی پر رقص بھی کر رہے ہیں۔ ایک ویڈیو میں ایک شخص کو بغیر شرٹ کے بیئر پیتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ دیگر کشتیوں کا قافلہ گنگا کے گھاٹوں سے گزرتا ہوا نظر آتا ہے جہاں ڈی جے کی آواز گونج رہی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ جلوس منجھی برادری کی جانب سے روایتی طور پر چیترا نو راتری کے بعد نکالا جاتا ہے، جو شیتلا گھاٹ سے شروع ہو کر چھوٹی شیتلا ماتا کے مزار کے پاس سے گزرتا ہوا مرزاپور تک جاتا ہے، جہاں شرکاء رات قیام کرتے ہیں اور اگلے دن واپس لوٹتے ہیں۔ اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس نے بتایا کہ ویڈیوز رات کے وقت کی معلوم ہوتی ہیں اور اس معاملے کی جانچ جاری ہے جبکہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تاہم جب اس واقعے کے مذہبی جذبات پر ممکنہ اثرات کے بارے میں سوال کیا گیا تو پولیس افسر نے کوئی واضح جواب دینے کے بجائے محض تحقیقات جاری ہونے کی بات دہرائی۔ اس خاموشی نے کئی حلقوں میں سوالات کو جنم دیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کچھ ہفتے قبل اسی شہر میں 14 مسلم نوجوانوں کو رمضان کے دوران گنگا کے کنارے افطار میں نان ویج کھانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں ضمانت بھی نہیں دی گئی تھی۔ اس وقت بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے ایک مقامی رہنما کی شکایت پر فوری کارروائی کی گئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس عمل سے ہندو برادری کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
موجودہ واقعے میں پولیس کی سست روی اور سابقہ واقعے میں فوری کارروائی کے درمیان فرق نے دوہرے معیار کے الزامات کو تقویت دی ہے۔ مقامی افراد اور سوشل میڈیا صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا قانون کا اطلاق یکساں طور پر ہو رہا ہے یا نہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل جانچ کے بعد ہی کوئی قدم اٹھایا جائے گا، تاہم بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے پیش نظر اس کیس میں کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
