ایران کا امریکی ٹیک کمپنیوں کو نشانہ بنانے کااعلان ، ایپل ، میٹا ، گوگل جیسی کمپنیاں بھی شامل ،دفاتر خالی کرنے کا حکم

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے ایک سخت اور غیر معمولی بیان جاری کرتے ہوئے خطے میں کام کرنے والی امریکی ٹیک کمپنیوں کو براہِ راست نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی ہے، ساتھ ہی ان کمپنیوں کے ملازمین اور قریبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو فوری طور پر انخلا کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کے مزید رہنماؤں کو “ٹارگٹڈ حملوں” میں نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق IRGC کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردانہ اہداف کی منصوبہ بندی اور نگرانی میں امریکی اور انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) اور مصنوعی ذہانت (AI) کمپنیوں کا بنیادی کردار ہے، اسی بنیاد پر اب یہ ادارے ایران کے لیے “جائز اہداف” بن چکے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ آئندہ اگر ایرانی قیادت کو نقصان پہنچایا گیا تو ایران براہ راست ان کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ 15 سے زائد بڑی امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جن میں بوئنگ، ٹیسلا، میٹا، گوگل اور ایپل جیسے عالمی ادارے شامل ہیں۔ بیان کے مطابق ممکنہ کارروائی کا وقت مقامی وقت کے مطابق کل رات 8 بجے کے بعد ہو سکتا ہے، جس کے پیش نظر ملازمین اور عام شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔

پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی، اور اس میں امریکہ کی مبینہ شمولیت نے خطے کو ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ایران بارہا یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ اس کے سینیئر فوجی اور سائنسی رہنماؤں کو نشانہ بنانے میں بیرونی طاقتیں ملوث ہیں، اور اب اس نے پہلی بار ٹیکنالوجی کمپنیوں کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے انہیں نشانہ بنانے کی بات کی ہے۔

اس صورتحال کے ممکنہ اثرات نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ اگر ایران واقعی ان عالمی کمپنیوں کو نشانہ بناتا ہے تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے ہزاروں افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی بلکہ عالمی معیشت، ٹیکنالوجی سیکٹر اور انٹرنیٹ انفراسٹرکچر بھی شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ممکنہ ردعمل ایک بڑے فوجی تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جہاں سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور جنگ کے بادل بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ دھمکی عملی شکل اختیار کرتی ہے یا عالمی دباؤ کے تحت حالات کسی حد تک قابو میں آ جاتے ہیں۔