شادی شدہ مرد کا لیو اِن ریلیشن جرم نہیں، اخلاقیات اور قانون الگ: الہ آباد ہائی کورٹ


Allahabad High Court کے حالیہ فیصلے میں جہاں شادی شدہ مرد کے کسی بالغ خاتون کے ساتھ رضامندی پر مبنی لیو اِن ریلیشن کو جرم قرار نہیں دیا گیا، وہیں اس بحث نے ہندوستان میں دوسری شادی کے قانون کو بھی ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بنا دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اخلاقیات اور قانون کو الگ رکھا جانا چاہیے، تاہم قانون کی اپنی حدود ہیں جن کی خلاف ورزی پر سزا بھی مقرر ہے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک خاتون کے اہل خانہ نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شادی شدہ مرد کے ساتھ اس کا رہنا غیر قانونی ہے۔ تاہم جسٹس جے جے منیر اور جسٹس ترون سکسینہ پر مشتمل بنچ نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دو بالغ افراد اگر اپنی مرضی سے ساتھ رہ رہے ہیں تو اسے جرم نہیں کہا جا سکتا، چاہے مرد شادی شدہ ہی کیوں نہ ہو۔

یہاں ایک اہم فرق سامنے آتا ہے کہ عدالت نے لیو اِن ریلیشن کو جرم نہیں مانا، لیکن اسے قانونی شادی کا درجہ بھی حاصل نہیں ہے۔ یعنی اگر شادی شدہ مرد کسی دوسری عورت کے ساتھ بغیر نکاح یا شادی کے رہتا ہے تو یہ اخلاقی بحث کا موضوع ہو سکتا ہے، مگر جب وہ باضابطہ دوسری شادی کرتا ہے تو وہ قانون کی خلاف ورزی بن جاتی ہے۔

سماعت کے دوران عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ خاتون نے ضلع شاہجہاں پور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے رجوع کرتے ہوئے اپنی جان کو خطرہ بتایا تھا، جس پر عدالت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ دونوں بالغ افراد کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون کا کام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ سماجی دباؤ کے تحت فیصلے دینا۔