تحریر: مولانا عبد المتین منیری (بھٹکل)
آج مورخہ ۲۵ مارچ بعد نماز عشاء تنظیم ملیہ مسجد میں جناب سید حسن برماور کی نماز جنازہ ادا ہوئی،اور آپ کا جسد خاکی قریب ہی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ کاروار ضلع کی یہ وسیع ترین مسجد مصلیان سے ایسے کھچا کچھ بھری ہوئی تھی کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی، اور جو مرحوم کی بندگان خدا میں مقبولیت کی نشاندہی کررہی تھی ، کیا بعید کہ اس بارگاہ عالی میں مرحوم کی مقبولیت اس سے کہیں زیادہ ہو، جہاں ہم سب کو لوٹ کر جانا ہے، اور جہاں کی مقبولیت اس دنیا جہاں کی تمام مقبولیتوں کے سامنے پر کاہ کی اہمیت نہیں رکھتی ۔
مرحوم نے اس دنیائے فانی میں زندگی کی (۷۳) بہاریں دیکھیں، آپ نے سنہ ۱۹۵۳ء میں اس دنیا میں آنکھیں کھولیں تھی، انہیں دیکھنے اور جاننے والے گواہ ہیں کہ ان کی زندگی اتنے سارے اچھے کاموں سے بھری پڑی تھی، جوبارگاہ خداوندی میں درجات کی بلندی اور مغفرت کا سبب بن سکتے ہیں۔ آخر نیک کام ہی تو ایک انسان کو جنت الفردوس کا حقدار بناتے ہیں، اور دنیا میں یہ اچھے اعمال ہی اس دائمی سفرمیں زاد راہ بن جاتے ہیں۔
مرحوم کی اس ناچیز سے کب شناسائی ہوئی تھی یہ بتانا مشکل ہے، آپ نے سلطانی محلہ میں اپنے خاندانی سید کاکو ہاؤس میں آنکھیں کھولیں تھی، یہ میرے خالو سید شاہ الحمید برماور کا بھی خاندانی مکان تھا، اس زمانے کے رواج کے مطابق اس ایک گھر میں کئی سارے خاندان آباد تھے، جن میں دنیاوی لحاظ سے مالداراور خوش حال تو کوئی نہیں تھا، لیکن محنت سے روزی کما کرعزت کی چادر ڈھانپنے والے کئی ایک تھے، ان میں سید حسن کا خاندان بہت ہی تنگ دست تھا، آپ کے والد سید اسماعیل برماور ممبئی میں محنت مزدوری کرکے گھر پالتے تھے، وہ سید حسن کے اس دنیا میں آنکھیں کھولنے اور سن شعور کو پہونچنے سے پہلے ہی اس دنیا کو داغ مفارقت دے گئے تھے،آپ نے اپنے پیچھے دو بیٹیاں ، ایک فرزند اور بیوہ شہر بانو اکرمی کو چھوڑا۔یہ بیوہ جناب عبد القادر باشاہ اکرمی خلفو( سابق امام وخطیب جامعہ مسجد بھٹکل ، والد ماجد مولانا محمد صادق اکرمی ندوی) اور جناب سعید اکرمی ( والد مولانا محمد ناصر اکرمی) کی ہمشیرہ اور سید نطہر برماور ( والد سید سمیع اللہ برماور ) کی عزیز تھیں،ان قرابت داروں نے صلہ رحمی کا حق ادا کرنے کی بساط بھر کوششیں کیں۔ اس طرح آپ کا بچپن داغ یتیمی کی نذر ہوگیا ہے، بچپن کا یہی احساس تھا جس نے انہیں اپنے عزیزوں ، رشتہ داروں کا ہمدرد اور بہی خواہ بنا دیا، اور حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے جس طرح صلہ رحمی، اپنوں اور غیروں سے ہمدردی اور ان کے مدد کو اپنی زندگی کا شعار بنایا تھا ،اس کی مثال ہمارے معاشرے میں شاذ ونادر ہی مل سکے گی۔
خاندانی پس منظر۔ سید کاکو سادات
یہاں یہ بتانا مناسب ہوگا کہ بھٹکل کی نوائط برادری میں سادات کے جو خاندان پائے جاتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ ان کا نسب بغداد (عراق) سے تشریف لانے والے بزرگ سید ابراہیم بغداد ی سے ملتا ہے، سید حسن برماور کا نسبی تعلق انہی بزرگ کی سید کاکو شاخ سے ملتا تھا ۔جوکہ آپ کے فرزند سید عثمان سے چلی تھی۔
مشہور محقق ڈاکٹر وکٹر دیسوزا نے اپنی تحقیقی کتاب نوائط آف کینرا کی تصنیف کے زمانے میں قوم کے ایک بزرگ سید عمر برماور مرحوم ( سابق جنرل سکریٹری مجلس اصلاح وتنطیم بھٹکل) سے ملاقات کرکے ان کا جو نسب نامہ حاصل کیا تھا، اس کا خلاصہ اپنی کتاب میں یوں بیان کیا ہے۔
” مندرجہ ذیل ایک شجرہ نسب ہے جسے بھٹکل کے ان سید خاندانوں میں سے ایک نے محفوظ کیا ہے جو اپنا سلسلہ نسب سید ابراہیم بغدادی سے جوڑتے ہیں۔ یہ شجرہ مجھے برماور سید عمر بن سید حسن بن سید علی بن سید محی الدین بن سید حسین بن سید محمد بن سیدکاکو احمد برماور بن سیدکاکو سید حسین بن سیدکاکو سید عثمان بن سیدکاکو سید علی بن سیدکاکو سید عثمان بن سید ابراہیم بغدادی نے دکھایا تھا۔ یہ شجرہ سید ابراہیم بغدادی کا مکمل نسب نامہ بھی دکھاتا ہے جو خود نبی کریم ﷺ تک پہنچتا ہے۔
جس خاندان کا حوالہ دیا گیا ہے وہ اپنا سلسلہ نسب سید ابراہیم بغدادی کے بیٹے سید کاکو کے ذریعے جوڑتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے سیدکاکو بھی کہا جاتا ہے۔ خاندانی نام ‘برماور’ آباؤ اجداد میں سے ایک بزرگ سید احمد کے ذریعے حاصل ہوا جن کے جنوبی کناڑا میں ‘برماور’ نامی جگہ پر تجارتی تعلقات تھے۔ لہذا، برماور خاندان محض سیدکاکو خاندان کی ایک شاخ ہے۔ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ برماور کا خاندانی نام استعمال کرنے والے لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو سید نہیں ہیں۔ وہ سیدکاکو کے خاندانی اصل سے تعلق رکھنے والے برماور خاندانوں سے الگ ہیں۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ سیدمحی الدین اور سیدکاظمی کے خاندانی سلسلے سید ابراہیم بغدادی کے دو دیگر بیٹوں محی الدین اور کاظم سے نکلے ہیں۔ اس طرح ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ چاروں خاندانی سلسلے یعنی برماور، سیدکاکو، سیدمحی الدین اور سیدکاظمی ایک ہی جگہ پر جمع ہو جاتے ہیں”۔
(THE NAVAYATS OF KANARA p.91)
سید کاکو برماور کے خاندانی مکانات مسجد سلطانی کے بائیں طرف اب بھی واقع ہیں، مشہور ہے کہ سلطنت خداداد میسور کے حکمران ٹیپو سلطان کی والدہ کا تعلق بھٹکل سے تھا، اور سلطان شہید نے یہ مسجد اپنی والدہ کے ایصال ثواب کے لئے تعمیر کی تھی، اور اس کے اخراجات کے لئے جائدادیں وقف کی تھی، اور مسجد کی ذمہ داری اسی سید کاکو خاندان کے بزرگوں کو سونپی تھی۔ اور سلطان کے حکم سے جو سند عنایت کی تھی وہ وثیقہ کے نام سے مشہور ہے، یہ وثیقہ فارسی زبان میں لکھا ہے، اور خاندان میں ابتک محفوظ چلا آرہا ہے، اس کا اردو ترجمہ نفع عام کے لئے پیش خدمت ہے۔
نقلِ سندِ مسجدِ سلطانی
منشور فیض گنجور ظل اللہ الملک المنان ٹیپو سلطان بادشاہ غازی خلد اللہ ملکہ و سلطانہ
حال و مستقبل کے بھٹکل و شرالی تعلقہ کے والوں اور قلعہ داروں کے نام یہ تحریر ہے کہ سید احمد کو سلطانی مسجد کی تعمیر کے لیے تاکید کی جائے، اور اس کی تیاری کے لیے ایک ہزار روپیہ نقد اور زمین کے لیے حیدری ہون (سکہ کا نام) بطور انعام برائے خرچِ مسجدِ موصوف منظور کی گئی ہے، اس لیے تم کو چاہیے کہ بغیر کسی عذر و حیلہ کے مسجد سے متصل قابلِ کاشت زمین دے دیں اور بڑے پتھر پر مسجد کا نام انعام کی زمین کی مقدار بقیدِ سال و تاریخ چسپاں کی جائے، اور نقش کیا ہوا یہ پتھر سیادت پناہ سید احمد کو دے دیا جائے، اور ہمیشہ کے لیے یہ بات مؤکد طور پر جان لیں کہ مذکورہ مسجد میں مسلمان جمع ہو کر اتفاق کے ساتھ نمازِ پنجگانہ و عیدین ادا کریں گے، اور دینِ متین کی تقویت اور سلطنتِ خداداد کی ترقی و استحکام کے لیے دعا کرتے رہیں گے، اور آئندہ کبھی بھی کوئی مسجدِ سلطانی کی انعام والی زمین پر اعتراض نہ کرنے پائے۔ اس باب میں سخت تاکید کی جائے اور قدغن عائد کی جائے۔
مرقوم ۲۶ ماہ خسروی سال سحر ۱۲۲۱ھ (یعنی ۲۶ رجب ۱۲۰۷ھ مطابق ۹ مارچ ۱۷۹۳ء)
بخط محمد حامد سعید
جدو جہد زندگی
جب یہ ناچیز جامع مسجد میں مکتب جامعہ اسلامیہ بھٹکل کا طالب علم تھا تو اس دوران سید حسن برماور کا داخلہ مکتب جامعہ میں ہوا تھا، گھریلو حالات ایسے نہیں تھے، کہ یکسوئی سے تعلیم جاری رکھ پاتے، غالبا مکتب پنچم پہنچتے پہنچتے مکتبی تعلیم کو خیر باد کہا۔ ابھی عمر دس بارہ سال کی تھی کہ تلاش معاش میں بنگلور چلے گئے، جہاں مختصر عرصہ اہل بھٹکل کی ایک دکان وھائٹ ہاوس میں گزارا۔ یہاں بھی جب دل نہیں لگا تو کام چھوڑ کرکچھ عرصہ بے کاری میں گذارا، پھر انہیں آپ کے ماموں اپنی سرپرستی میں چنئی لے گئے جہاں آپ نے کچھ عرصہ شمس الدین باشا پٹیل مرحوم کی دربار لنگی میں گذارا۔
یہ وہ زمانہ تھا کہ جماعت اسلامی ہند حلقہ ٹمل ناڈو کے امیر مولانا عبد العزیز مرحوم تھے، جو کہ چوٹی کے خطیب اور متحرک شخصیت تھے، اس وقت پٹیل باشاہ صاحب کے انتقال کے بعد دربار لنگی اور دل پسند رومال کا کاروبار آپ کے فرزند عبد الرحمن سائب شابندری پٹیل صاحب دیکھ رہے تھے، کم لوگوں کو معلوم ہے کہ مشہور نو مسلم عالم حدیث ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن الاعظمی ۔ (سابق صدر شعبہ حدیث مدینہ یونیورسٹی) اسلام میں داخل ہونے کے بعد امتحان و ابتلاء میں پڑ گئے تھے ، اور پولیس اور دشمنوں سے چھپ چھپاتے پھر رہے تھے، اس دوران کچھ عرصہ اس کمپنی کو آپ کی میزبانی اور نگہبانی کا شرف حاصل ہوا تھا، عبد الرحمن سائب پٹیل صاحب جماعت اسلامی کی فکر کے حامل تھے(ماشاء اللہ بقید حیات ہیں)، مولانا مودودی سے ۱۹۶۰ء کی دہائی میں دوران حج ملاقات کا بھی شرف آپ کو حاصل ہوا تھا۔ بھٹکل میں مولانا ابو اللیث اصلاحی ندوی سابق امیر جماعت اسلامی ہند، اور مولانا سید حامد حسین ، سکریٹری جماعت جیسی اہم شخصیات آپ ہی کے توسط سے بھٹکل تشریف لائی تھیں۔
اس زمانے میں عبد الرحمن سائب پٹیل نے اپنی کمپنی میں ہفت وار درس قرآن کے انعقاد کا اہتمام کیا تھا، جس میں مولانا عبد العزیز صاحب (پابندی سے شریک ہوتے تھے۔ آپ کے درس وتقاریر سے اہلیان بھٹکل واطراف بہت متاثر ہوتے تھے۔ سید حسن مرحوم کوبھی انہی دروس نے جماعت اسلامی سے محبت، اور دین کی خدمت کا جذبہ پیدا کیا تھا، جو آپ کے دم واپسیں تک برابر قائم ودائم رہا۔ (جاری)
