ایران کی دھمکی:خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی بینک ہونگے اگلا نشانہ

ایران کی مسلح افواج نے خبردار کیا ہے کہ تہران میں ایک بینک پر حملے کے بعد خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی بینک بھی جوابی کارروائی کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

ایرانی فوج کے مشترکہ کمانڈ خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ منگل کے روز تہران میں ایک بینک پر امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ فضائی حملہ کیا۔

ترجمان نے اس کارروائی کو غیر قانونی اور غیر روایتی جنگی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد ایران کی مسلح افواج کو یہ حق حاصل ہو گیا ہے کہ وہ خطے میں موجود امریکہ اور اسرائیل کے معاشی مراکز اور بینکوں کو نشانہ بنائیں۔

انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ “امریکہ ہمارے دردناک جوابی اقدام کا انتظار کرے۔”

ایرانی ترجمان نے ان ممالک کے عوام کو بھی خبردار کیا جہاں امریکی یا اسرائیلی بینک موجود ہیں کہ وہ ان عمارتوں کے ایک کلومیٹر کے دائرے سے دور رہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق شمالی تہران میں جس بینک کو نشانہ بنایا گیا، اس حملے میں کئی ملازمین ہلاک ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ ملازمین فروری کے اختتام پر تنخواہوں کی ادائیگی کی تیاری کے لیے اضافی شفٹ میں کام کر رہے تھے۔

ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد ایران میں اب تک 1200 سے زائد افراد ہلاک اور 10 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اعلیٰ فوجی عہدیدار بھی شامل ہیں۔

ادھر تہران میں بدھ کے روز کئی ہلاک ہونے والے فوجی کمانڈروں کی نماز جنازہ ادا کیے جانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔