کاروار: بجٹ میں سوپر اسپیشالٹی اسپتال سمیت کئی منصوبوں کا اعلان

کاروار: اتر کنڑا ضلع کے لیے ریاستی بجٹ میں چند اہم ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے جس پر عوام نے اطمینان بھی ظاہر کیا ہے، تاہم بعض اہم مطالبات شامل نہ ہونے پر مایوسی بھی پائی جارہی ہے۔ خاص طور پر ماہی گیروں کے لیے ڈیزل سبسیڈی اور جنگلاتی زمین پر آباد افراد کو مالکانہ حقوق دینے جیسے معاملات پر بجٹ میں کوئی واضح فیصلہ نہ ہونے پر بعض حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ سدارامیا کی جانب سے پیش کردہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کاروار کے لیے تقریباً 100 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک جدید سوپر اسپیشالٹی ہاسپتال قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ اتر کنڑا ضلع کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا جس کے پورا ہونے سے صحت کے شعبہ میں بڑی سہولت ملنے کی توقع ہے۔

منصوبے کے مطابق کاروار میں پہلے سے موجود ملٹی اسپیشالٹی ہاسپتال کے احاطے میں پرانی عمارت کو ہٹا کر نئی عمارت تعمیر کی جائے گی۔ یہاں جدید طبی سہولتوں سے لیس سوپر اسپیشالٹی اسپتال قائم ہوگا جس سے کاروار اور اطراف کے علاقوں کے مریضوں کو پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے بڑے شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت کم پڑے گی۔

بجٹ میں ساحلی اور ملناڈ خطوں کی بنیادی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے بھی مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں تقریباً 300 مقامات پر پیدل گزرنے کے پل تعمیر کرنے کے علاوہ سرسی اور سداپور تعلقہ جات میں پلوں اور بندوں کی تعمیر کی بھی تجویز دی گئی ہے تاکہ دیہی علاقوں میں آمد و رفت آسان بنائی جا سکے۔

سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے ضلع کے تدڑی علاقے میں ماحول دوست رہائشی سہولتیں، واکنگ ٹریک اور سیاحتی معلوماتی مرکز قائم کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے، جسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نافذ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ساحلی سیاحت کو مزید پرکشش بنانے کے لیے سی پلین، ہیلی ٹیکسی، واٹر اسپورٹس اور سی کروز جیسی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا بھی منصوبہ ہے۔

اسی بجٹ میں دکشن کنڑا ضلع کے پتور میں 300 بستروں پر مشتمل ایک میڈیکل کالج اور اسپتال قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے جس پر تقریباً 100 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ہاویک زبان اور اس سے وابستہ ادبی و ثقافتی روایت کے تحفظ کے لیے ہاویک بھاشا اکیڈمی قائم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔