Supreme Court of India نے پیر کے روز 2018 کے موب لنچنگ سے متعلق اپنے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کے الزام میں دائر توہینِ عدالت کی عرضی سماعت کے لیے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
عدالت نے کہا کہ اُس وقت مرکز اور ریاستی حکومتوں کو دی گئی ہدایات “عمومی نوعیت” کی تھیں اور ان پر براہِ راست توہین عدالت کی کارروائی چلانا “ناقابلِ انتظام” ہوگا۔
یہ فیصلہ چیف جسٹس Surya Kant اور جسٹس Joymalya Bagchi پر مشتمل بنچ نے سنایا، جو تنظیم Samastha Kerala Jamiat-ul-Ulema کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کر رہا تھا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی مخصوص شخص کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہو تو اس بنیاد پر توہین عدالت کی عرضی دائر کی جا سکتی ہے، لیکن عمومی ہدایات کی بنیاد پر بار بار ایسی درخواستیں قابلِ سماعت نہیں ہو سکتیں۔
پس منظر
سنہ 2018 میں سپریم کورٹ نے مرکز اور ریاستوں کو ہدایت دی تھی کہ:
موب لنچنگ کی روک تھام کے لیے احتیاطی، تادیبی اور تدارکی اقدامات کیے جائیں۔
خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں۔
متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے معاوضہ اسکیم بنائی جائے۔
ایسے افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی ہو جو اپنی ذمہ داری ادا نہ کریں۔
پارلیمنٹ نیا تعزیری قانون بنانے پر غور کرے تاکہ “موبوکریسی” کو روکا جا سکے۔
عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ گاؤ رکشا کے نام پر تشدد یا ہجوم کے ہاتھوں قانون اپنے ہاتھ میں لینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
عدالتی مؤقف
بنچ نے کہا: عدالت کو ایسے احکامات جاری کرتے وقت محتاط رہنا چاہیے جو عملی طور پر قابلِ نفاذ نہ ہوں۔
عدالت نے واضح کیا کہ وہ اس نوعیت کی توہین عدالت کی عرضی سماعت کے لیے قبول نہیں کرے گی۔
