برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں رمضان کے دوران بہرے اور سماعت سے محروم افراد کے لیے خصوصی تراویح کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر قرآن کریم کی تلاوت اشاروں کی زبان میں کی گئی، جس نے کمیونٹی میں ایک نئی مثال قائم کی۔ منتظمین کے مطابق، کچھ افراد نے پورا قرآن اشاروں کی زبان میں یاد کر رکھا ہے، جو ایک غیر معمولی اور متاثر کن کارنامہ سمجھا جا رہا ہے۔
مذہبی شمولیت کی مثال
یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ مذہبی رسومات کو ہر فرد کے لیے قابل رسائی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ برطانیہ میں مساجد اور اسلامی مراکز حالیہ برسوں میں معذور افراد کے لیے سہولیات بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں، جن میں اشاروں کی زبان کے مترجمین اور خصوصی انتظامات شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اشاروں کی زبان کے ذریعے قرآن کی تعلیم دینا نہ صرف مذہبی تعلیم کو عام کرتا ہے بلکہ سماعت سے محروم افراد کو عبادات میں مکمل شرکت کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
قرآن کی حفاظت اور ترسیل
علماء کے مطابق قرآن کریم کی حفاظت صرف تحریری شکل تک محدود نہیں بلکہ زبانی یادداشت اور مختلف زبانوں اور طریقوں کے ذریعے بھی جاری ہے۔ اشاروں کی زبان میں قرآن کا حفظ اسی تسلسل کی ایک جدید مثال ہے۔ مقامی کمیونٹی کے افراد نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ روحانی اور سماجی طور پر حوصلہ افزا لمحہ تھا، جس نے اتحاد اور شمولیت کے پیغام کو تقویت دی۔
