کرناٹک میں بس کرایوں پر نظر رکھنے کے لیے نئی ریگولیٹری کمیٹی قائم کرنے کی تیاری

بنگلورو(فکروخبرنیوز) ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کو مالی بحران سے بچانے اور بس کرایوں میں اضافے کو سیاسی دباؤ سے آزاد رکھنے کے مقصد سے کرناٹک حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ فیر ریگولیٹری کمیٹی (PTFRC) کے قیام کا مسودہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ یہ کمیٹی بجلی کے شعبے میں کام کرنے والے KERC کی طرز پر ہوگی اور بس کرایوں میں نظرثانی کی ذمہ داری نبھائے گی۔

حکام کے مطابق پچھلے دس برسوں میں ڈیزل کی قیمت تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔ 2014 میں کارپوریشنوں کے یومیہ اخراجات 7 کروڑ روپے تھے جو اب بڑھ کر 13 کروڑ تک پہنچ گئے ہیں۔ اسی دوران عملے پر ہونے والے اخراجات بھی 6 کروڑ سے بڑھ کر 12 کروڑ روپے یومیہ ہو گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مسافروں پر اچانک بوجھ ڈالنے کے بجائے کرایوں میں بتدریج اضافہ ناگزیر ہے۔

مسودہ نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کی صدارت یا تو حکومت کے ریٹائرڈ ایڈیشنل چیف سکریٹری کریں گے یا پھر کرناٹک ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج۔ دیگر ارکان میں ایک ریٹائرڈ چیف سیکریٹری/سیکریٹری (قانونی پس منظر کے ساتھ) اور ایک صنعت یا مالیات کا ماہر شامل ہوگا، جبکہ KSRTC کے منیجنگ ڈائریکٹر کمیٹی کے ممبر سکریٹری ہوں گے۔

کمیٹی وقتاً فوقتاً کارپوریشنوں کی مالی حالت کا جائزہ لے کر کرایوں میں ترمیم کی سفارش کرے گی، اور ضرورت پڑنے پر سرچارجز یا دیگر فیسیں عائد کرنے کا بھی اختیار رکھے گی تاکہ اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔

ہدایت کے مطابق کمیٹی کو ہر سال یکم اپریل کے بعد اپنی سفارشات ریاستی مقننہ کے دونوں ایوانوں میں پیش کرنا ہوں گی، جبکہ 31 دسمبر تک سالانہ رپورٹ جمع کرانی ہوگی۔

شیئر کریں۔