عہدے اور مناصب اللہ تعالٰی کی امانت

حافظ عمر سلیم عسکری ندوی

غالبا یہ بات ہم سب کو معلوم ہے کہ عہده ومنصب ایک عظیم چیز ہے اور يہ ایک امانت ہے،چونکہ اس سے ادارے اورتنظیمیں بنتی ہیں جو معاشرے اور سماج کےلئے مفيد ہوتے ہیں، ملت كے مسائل کو اس کے ذریعے حل کیا جاتا ہے، نیز کتاب و سنت میں مختلف مقامات پر اس ذمہ داری کا احساس دلایا گيا ہے:

والذين هم لأماناتهم وعهدهم راعون. والذين هم بشهاداتهم قائمون. والذين هم على صلاتهم يحافظون أولئك فى جنات مكرمون. المعارج:32-35

اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں اور جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں اورجو اپنی نمازوں  کی حفاظت کرنے والے ہیں یہی لوگ جنت کے باغات میں مکرم ومعزز ہوں گے"۔

(لا ايمان لمن لا امانة له ولا دين لمن لا عهد له )مشكوة، كتاب الايمان،بحوالہ بیھقی فی شعب الايمان بروایت انس)۔

جو امانتدار نہیں اسکا کوئی ايمان نہیں جوعھد کا پابند نہیں اسکا کوئی دین نہیں۔

ان آیات اور ارشادات سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ امانتداری ودیانتداری کتنی اہم اور بہترین صفات ہیں کہ انسان اسوقت قابل تعریف ہوگا جب اسکا عمل کتاب و سنت کے مطابق ہوگا ورنہ عند اللہ مأخوذ ہوگا۔

یہ بات مسلم ہے کہ اگر کوئی سماج، معاشرہ یا کوئی ادارہ اپنے آپ کو ظلم وزیادتی سے پاک ركهنا یا اپس میں باہمی اعتماد واعتبار،عدل وانصاف اورامن و سکون کی فضا قائم کرنا چاہتا ہے تو امانتداری اور دیانتداری کی صفات سے متصف ہو،اسی لئے ہر دور اور ہر قوم میں اور ہر مذہب اور تہذیب میں امانتداری کو پسند کیا گیا ہے۔

چونکہ اسلام فطرت کا دین ہے، یہ انسانیت کو اچھی زندگی گزارنے کا طریقہ دکھاتا ہے۔

عموما آج كل امانت صرف اسي چیز کو سمجها جاتا ہے جس کے پاس کسی کا مال یا روپیہ امانت کے طور پر رکھا جاے اور وہ بلاکسی کمی کے اس چیز کو واپس کر دے۔ لامحالہ یہ بھی امانتداری ہے۔

البته دین اسلام میں امانت داری کا تصور اسی پر محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں اور تمام حقوق پر مشتمل ہے۔

اس طرح كہ امانتداری کا اطلاق سیاسی اور انتظامی امور میں بھی ہے،

لہذا عهده بڑاہو کہ چھوٹا، جس کو ملے وہ اپنی ڈیوٹی اور ذمہ داری شریعت اسلامیہ کے اصولوں کی روشنی میں پوری کرے، لہذا ہر قوم اور ادارے کے لوگ ایسے افراد تلاش کریں جو عہدوں اور مناصب کے مستحق ہیں، اگر کوئی کسی نااہل كو عہدہ و منصب دے تو اس صورت میں اسکے نتائج بھی سنگين ہوں گے، اسی طرح اگر کوئی امارت و صدارت کے اہل ہونے کے باوجود اسے محروم ركهے تو بھی ادارہ خیر وبرکت سے محروم رہے گا.

22 جنوری 2022

«
»

کہانی گھر گھر کی! قسط 4 (سرکاری کالجوں میں حجاب تنازعہ)

نئی زبان سیکھنے کا طریقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے