معرکہ ’طوفان الاقصیٰ‘ کی تیسری برسی کے موقع پر شہید عز الدین القسام بریگیڈز کے ترجمان ’ابو عبیدہ‘ نے سات اکتوبر سنہ 2023ء کے منظر نامے کو یاد کرتے ہوئے اسے ایک ایسا فیصلہ کن موڑ قرار دیا جس نے اسرائیلی دفاعی حصار اور عسکری توازن کو توڑ کر رکھ دیا۔ اس تاریخی دن نے قابض ریاست کے سکیورٹی اور عسکری اداروں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا، جب کہ فلسطینی مزاحمت نے ایک ایسا وسیع اور همہ جہت حملہ کیا جس نے دشمن کے تمام حسابی اندازوں کو درہم برہم کرتے ہوئے اس کے نام نہاد سکیورٹی نظام کو کاری اور جان لیوا ضرب لگائی۔
’ابو عبیدہ‘ نے اپنے ایک بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ سات اکتوبر نے عسکری تاریخ کا ایک ایسا معجزہ کر کے دکھایا جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس آپریشن کے دوران منصوبہ بندی اور نفاذ کی لاجواب مہارت کے ساتھ ساتھ ایک پختہ اور محکم سٹریٹجک حکمت عملی کا مظاہرہ کیا گیا، جس میں قابض ریاست کی اندرونی کمزوریوں، اس کی قیادت کے مکرہ غرور اور حریف کی صلاحیتوں کو کم تر سمجھنے کی خصلتوں کا بھرپور اور مؤثر انداز میں فائدہ اٹھایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس پُرعزم دن نے قابض ریاست کے اس مبینہ سکیورٹی نظریے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جس پر اسے بڑا ناز تھا۔ غیور مجاہدین کے بازوؤں نے عسکری توازن، برتری اور پیشگی وارننگ کے اس پورے نظام کو زمین بوس کر دیا جس کے سہارے قابض ریاست برسوں سے فلسطینی قوم کے ساتھ اپنی کشمکش کو قابو میں رکھنے کی خام خیالی پالتی رہی تھی۔
سکیورٹی اور دفاعی نظام پر ایک کاری ضرب
اس یادگار آپریشن کے اثرات صرف اس کے براہ راست عسکری دائرے تک محدود نہیں رہے، بلکہ اس نے اسرائیلی سکیورٹی ڈھانچے میں ایک ایسا لرزہ طاری کیا جس کی گونج دنیا بھر میں سنائی دی۔ اس نے عالمی برادری کے سامنے صیہونی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کر دیا، جبکہ فلسطینی مزاحمت نے متعدد عسکری ونگز کی مشترکہ شرکت سے کیے جانے والے اس اچانک حملے کے دوران غزہ کے اطراف میں قائم دشمن کے مضبوط ترین عسکری اڈوں تک کامیاب رسائی حاصل کی۔
یہ وہ نازک لمحہ تھا جب جنگ کے ابتدائی گھنٹوں کے دوران ہی قابض فوج کا نام نہاد ’غزہ ڈویژن‘ ریت کی دیوار کی طرح ڈھیر ہو گیا، جو اس حیرت اور سراغ رسانی کی ناکامی کے عظیم حجم کو ظاہر کرتا ہے جس کا سامنا صیہونی عسکری ادارے کو کرنا پڑا۔ اس معرکے نے اس کمزور اور کھوکھلے وارننگ سسٹم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر ڈالا جسے قابض ریاست ہمیشہ اپنی قومی سلامتی کے ناقابل تسخیر ستونوں میں شمار کراتی تھی۔
آج سات اکتوبر کے دوررس مضمرات سکیورٹی اور عسکری سطح پر ہونے والی ناکامیوں کی وجوہات کے طور پر اسرائیلی حلقوں میں شدید بحث کا محور بنے ہوئے ہیں۔ اس جرات مندانہ آپریشن نے فلسطینی مزاحمت اور قابض ریاست کے مابین جاری کشمکش کی نوعیت اور اس کے توازن کو ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا ہے۔
غزہ: مزاحمت کا دھڑکتا دل
غزہ کی پٹی کے باسیوں اور مجاہدین کے نام اپنے پرعزم پیغام میں ’ابو عبیدہ‘ نے گذشتہ تین برسوں کے دوران اس خطے کی طرف سے پیش کی جانے والی عظیم قربانیوں اور آزمائشوں کے لاامتناہی سفر پر قوم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ وحشیانہ صیہونی جارحیت کے مقابلے میں غزہ کے باسیوں نے جس فولادی عزم اور پامردی کا مظاہرہ کیا، اس نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے اس استقامت کو سات اکتوبر کے بعد کے عسکری اور سیاسی منظر نامے کا سب سے روشن اور بنیادی باب قرار دیا۔
انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس طویل اور کٹھن معرکے کی قیمت بہت بھاری تھی، لیکن انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ غزہ کے غیور عوام نے جو لازوال قربانیاں دی ہیں، وہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر اور فلسطینی شعور کا مستقل حصہ رہیں گی۔ محاصرہ زدہ غزہ کی اس پٹی نے دنیا بھر کے سامنے اس بین الاقوامی منافقت اور بے حسی کو بے نقاب کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا جو برسوں سے اس مظلوم قوم کا استحصال کر تی چلی آرہی تھی اور یوں اس نے ایک بار پھر مسئلہ فلسطین کو عالمی توجہ کے مرکزی دھارے میں لا کھڑا کیا۔
یہ تاریخی پیغام ’طوفان الاقصیٰ‘ کے بعد مسلط کی جانے والی طویل جنگ کے جاری اور همہ جہت اثرات کے عین تناظر میں سامنے آیا ہے، جو جدید فلسطینی ۔ اسرائیلی کشمکش کی پوری تاریخ میں سب سے زیادہ خونریز، فیصلہ کن اور دوررس نتائج کی حامل ابواب میں تبدیل ہو چکی ہے۔
اسیران کا مقدمہ اور ایک نیا عسکری و سیاسی مساوات
اسیران کا نازک اور حساس باب اس معرکے کے انتہائی نمایاں اور اسٹریٹجک نتائج میں سے ایک کے طور پر ابھرا ہے۔ القسام بریگیڈز اور دیگر فلسطینی مزاحمتی دھڑے اس عظیم معرکے کے دوران دشمن کے 251 افسروں، فوجیوں اور مسلح یہودی آباد کاروں کو قیدی بنانے میں کامیاب رہے۔ ان میں سے ایک معتدبہ تعداد کو بعد ازاں قیدیوں کے تبادلے کے مرحلہ وار معاہدوں کے تحت رہا کرایا گیا، جبکہ بقیہ اسیران اور فیلڈ کے معاملات نے آنے والے برسوں کے طویل مذاکراتی عمل کی بنیاد رکھ دی۔
اسی طرح قابض فوج نے بھی اپنی جاری کردہ رپورٹس کے اعتراف کے مطابق اس همہ جہت معرکے کے پہلے دن اور اس کے بعد ہونے والی خونریز جھڑپوں میں اپنے 1,318 فوجی افسروں اور جوانوں کی ہلاکت کی تصدیق کی، جبکہ اس دوران 1,029 یہودی آباد کار بھی واصلِ جہنم ہوئے۔
یوں دیکھا جائے تو سات اکتوبر محض ایک عسکری چھاپہ یا عارضی معرکہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا انقلابی لمحہ تھا جس نے اسرائیلی عسکری برتری کے غبارے سے ہوا نکال دی اور فلسطینی مزاحمت کے مقابلے میں ایک پائیدار اور موثر دفاعی فارمولہ مسلط کرنے کی قابض ریاست کی صلاحیت کو ہمیشہ کے لیے سوالیہ نشان بنا دیا۔
معرکے کی تیسری برسی کے اس بابرکت موقع پر سات اکتوبر ایک ایسے عہد ساز واقعے کے طور پر تازہ دم ہو کر سامنے آیا ہے جس کے سیاسی، عسکری اور سکیورٹی اثرات خطے کی تقدیر بدل رہے ہیں۔ اس نے خطے کے تصادم کو ایک بالکل نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل کر دیا ہے اور سکیورٹی کے مفہوم، دفاعی حکمت عملیوں اور خطے کے مستقبل کے تمام حسابی پیمانے سرے سے تبدیل کر دیے ہیں۔




