گجرات سیلاب کی تباہ کاریوں کے بیچ مسلم نوجوانوں کی بے لوث انسانیت نواز مہم

ریاست گجرات میں شدید بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کے دوران مسلم نوجوانوں، مذہبی اداروں اور سماجی تنظیموں نے بڑے پیمانے پر ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری ایجنسیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرتے ہوئے ان رضاکاروں نے سیلاب میں پھنسے ہزاروں خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور ان تک ضروری سامان پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث اب تک ریاست میں درجنوں افراد کی جانیں جا چکی ہیں، جبکہ صرف سورت میں ریکارڈ توڑ بارش نے پچھلے تمام ریکارڈ اڑا دیے ہیں، جس کی وجہ سے شہر کا ایک بڑا حصہ زیر آب آ گیا۔

رپورٹس کے مطابق احمد آباد، وڈودرا، بھروچ اور بناس کانٹھا جیسے شدید متاثرہ اضلاع میں مسلم رضاکاروں نے کشتیاں فراہم کر کے پانی میں گھرے رہائشیوں کو بحفاظت نکالا۔ کمیونٹی نے فوری فیصلہ لیتے ہوئے متعدد مساجد اور مدارس کو عارضی ریلیف کیمپوں میں تبدیل کر دیا، جہاں مذہب اور ذات پات کی تفریق کے بغیر تمام متاثرہ افراد کے لیے رہائش، صاف پانی، ادویات اور پکے ہوئے کھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ مقامی مسلم اداروں اور چیریٹیبل ٹرسٹ کی جانب سے قائم کردہ کمیونٹی کچنز سے روزانہ ہزاروں لوگوں کو کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔

اس مہم میں مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں، انجینئروں اور سماجی کارکنوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ دور دراز اور کٹی ہوئی بستیوں تک پہنچ کر بزرگوں، خواتین اور بچوں کو نکالنے کی ان کوششوں کو مقامی انتظامیہ اور شہریوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔ گجرات حکومت کی جانب سے بھی متاثرہ خاندانوں کی بحالی کا کام تیز کر دیا گیا ہے اور نقصان کے سروے کے بعد مالی امداد کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔

کئی علاقوں میں پولیس اور مسلم نوجوانوں کو مشترکہ طور پر گلیوں میں گھٹنوں تک پانی میں اتر کر لوگوں کی مدد کرتے دیکھا گیا۔ خاص طور پر دیگر ریاستوں سے آئے ہوئے مہاجر مزدوروں کی مدد کے لیے بھی مسلم تنظیموں نے خصوصی راشن کٹس اور کپڑے تقسیم کیے۔ مصیبت کی اس گھڑی میں مسلم برادری کا یہ بے لوث جذبہ اور انسانیت کی خدمت گجرات میں باہمی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک بہترین مثال بن کر سامنے آئی ہے۔

شیئر کریں۔