ردرپور: پولیس نے مندر کے منیجر اروند شرما کو اودھم سنگھ نگر میں اٹاریہ دیوی مندر کے احاطے کے باہر نماز ادا کرنے والے ایک نوجوان پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد ایک اور ویڈیو نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے جس میں ملزم کو ایک دوسری کمیونٹی کی نوجوان لڑکی کو مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اتراکھنڈ کے اودھم سنگھ نگر ضلع میں اٹاریہ دیوی مندر کے احاطے کے باہر حملہ کے سلسلے میں پولیس نے بڑی کارروائی کی ہے اور ملزم اروند شرما کو گرفتار کیا ہے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک نوجوان کو مندر کے باہر خالی میدان میں نماز پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اسی دوران مندر کا منیجر اروند شرما پہنچ گیا اور مبینہ طور پر نوجوان کے ساتھ بدسلوکی شروع کر دی۔
ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ تنازعہ بڑھنے پر ملزم نوجوان کو ڈنڈے سے مارتا ہے۔ متاثرہ نوجوان کی شناخت شاہد کے نام سے ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد شاہد نے مسلم کمیونٹی کے افراد کے ساتھ پولیس سے رابطہ کیا۔ اس نے پولس میں شکایت درج کرائی، اروند شرما اور ایک اور فرد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
ایس ایس پی نے جانکاری دی کہ مندر کے منیجر کو جیل بھیج دیا گیا ہے: پولیس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ اجے گنپتی نے بتایا کہ: شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی۔ تفتیش کے بعد پولیس نے کل رات مرکزی ملزم اروند شرما کو گرفتار کر لیا اور اسے عدالت میں پیش کرنے کے بعد جیل بھیج دیا گیا۔ دوسرے ملزم کی تلاش جاری ہے۔
اسی دوران اروند شرما کا ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ اس ویڈیو میں وہ مبینہ طور پر دوسری کمیونٹی کی لڑکی کو مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ ویڈیو سے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔ پولیس انتظامیہ نے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تمام ویڈیوز کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انتظامیہ نے عوام سے افواہوں سے بچنے اور امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کی اپیل کی ہے۔
