بھارت کے محکمہ جہاز رانی Directorate General of Shipping نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری ایران۔امریکہ۔اسرائیل کشیدگی کے دوران تین بھارتی ملاح ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔
محکمے کے مطابق متاثرہ افراد غیر ملکی پرچم بردار جہازوں پر تعینات تھے۔ تاہم بھارتی پرچم والے جہازوں پر کسی جانی نقصان، حراست یا دشمن عناصر کے سوار ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
یہ ادارہ مرکزی وزارتِ جہاز رانی کے تحت کام کرتا ہے اور اس وقت خلیج فارس، آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور ملحقہ سمندری علاقوں کی سکیورٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
خلیج عمان میں مہلک حملہ
امریکی خبر رساں ادارے Associated Press کے مطابق خلیج عمان میں مارشل آئی لینڈ کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر پر بم بردار ڈرون بوٹ کے حملے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوا۔
یہ حملہ عمان کے دارالحکومت مسقط کے ساحل کے قریب پیش آیا اور موجودہ تنازعے میں کسی بھارتی شہری کی پہلی ہلاکت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سے ایک روز قبل عمان کے ساحل کے قریب پالاﺅ کے پرچم بردار آئل ٹینکر Skylight کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں سوار 20 افراد میں سے 15 بھارتی تھے۔ چار افراد زخمی ہوئے تاہم تمام عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا، جیسا کہ عمان میری ٹائم سکیورٹی سینٹر نے بتایا۔
آبنائے ہرمز: بڑھتا ہوا خطرہ
ایران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو شپنگ کے لیے “بند” کر دیا گیا ہے اور گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب Islamic Revolutionary Guard Corps کے مشیر جنرل سردار ابراہیم جباری نے خبردار کیا کہ اگر کوئی جہاز گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے آگ لگا دی جائے گی۔
آبنائے ہرمز وہ اہم سمندری راستہ ہے جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتا ہے اور دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل ترسیل اسی سے گزرتی ہے۔ کسی بھی رکاوٹ سے عالمی توانائی منڈیوں پر فوری اثر پڑ سکتا ہے۔
تنازعے کا پس منظر
ہفتے کے روز اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد تہران کی صلاحیتوں کو کمزور کرنا بتایا گیا۔
ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ تہران ایٹمی ہتھیار کے قریب پہنچ چکا ہے۔
حملوں کے بعد ایران نے خطے میں امریکی اڈوں، اسرائیلی اہداف اور بعض بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے خلیجی پانیوں میں سکیورٹی خطرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔
