ایران کے پاسدارانِ انقلاب Islamic Revolutionary Guard Corps نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو تمام بحری جہازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ جو بھی جہاز اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے سینئر مشیر ابراہیم جباری نے کہا کہ “آبنائے ہرمز بند ہے، اگر کسی نے گزرنے کی کوشش کی تو اسے آگ لگا دی جائے گی۔”
تاہم بین الاقوامی سطح پر اس گزرگاہ کی باضابطہ بندش کی تصدیق نہیں ہوئی، البتہ بحری ٹریفک میں نمایاں کمی اور الیکٹرانک نظام میں خلل کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اس کے شمال میں ایران جبکہ جنوب میں عمان واقع ہے۔
یہی وہ تنگ راستہ ہے جہاں سےدنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے
سعودی عرب، عراق، کویت، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ایران کا تیل و گیس گزرتی ہے
ایشیائی منڈیاں بڑی حد تک اسی راستے پر انحصار کرتی ہیں
امریکی ادارہ توانائی اطلاعات (EIA) پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اس راستے سے گزرنے والی زیادہ تر مقدار کے لیے کوئی مؤثر متبادل موجود نہیں۔
حملے اور خطرات میں اضافہ
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے آبنائے ہرمز کے اطراف جہازوں پر حملوں اور نیویگیشن سسٹمز میں مداخلت کی وارننگ جاری کی ہے۔
عمان کے مطابق خلیج عمان میں مارشل آئی لینڈ کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر پر بم بردار ڈرون بوٹ کے حملے میں ایک ملاح ہلاک ہوا۔
ڈیٹا اینالیٹکس کمپنی Kpler کے مطابق ٹینکر ٹریفک میں تیزی سے کمی آئی ہے، اگرچہ گزرگاہ مکمل طور پر باضابطہ بند قرار نہیں دی گئی۔
عالمی منڈیوں پر اثر
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچند دن یا ایک دو ہفتے کی جزوی بندش ہو تو منڈیاں اسے جذب کر سکتی ہیں
لیکن اگر مکمل یا تقریباً مکمل بندش ایک ماہ تک جاری رہی تو خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا سکتی ہیں
یورپی گیس کی قیمتیں بھی 2022 کے بحران جیسی سطح تک پہنچ سکتی ہیں
پیر کے روز خام تیل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا، مگر صورتحال غیر یقینی ہے۔
وسیع ہوتی ایران جنگ
یہ پیش رفت ایران اور امریکہ۔اسرائیل کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جس میں پہلے ہی خلیجی خطے میں امریکی تنصیبات، سفارتخانوں اور بحری راستوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش صرف ایک فوجی اقدام نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے براہِ راست چیلنج ہے۔
