یوپی میں 200سال پرانی وقف مسجد گرانے کی کوشش ناکام ، عدالتی فیصلہ پر انتطامیہ نے لی راحت کی سانس

اتر پردیش میں مسلم عبادت گاہوں اور تاریخی وراثتوں پر انتظامیہ کے مبینہ بلڈوزر قہر کے درمیان عدلیہ کی جانب سے ایک بڑی اور اہم راحت سامنے آئی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے ایک انتہائی حساس معاملے کی فوری سماعت کرتے ہوئے صوبے کے ضلع بہرائچ میں واقع ایک تاریخی مسجد کو منہدم کرنے کے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) کے مجوزہ اقدام پر سخت روک لگا دی ہے۔ جسٹس سوربھ لاوانیا اور جسٹس پرمود کمار شریواستو پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اس معاملے میں سخت رخ اختیار کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر مذکورہ مسجد کے خلاف کوئی بھی تادیبی کارروائی عمل میں نہ لائی جائے۔ عدالت عالیہ نے جائے وقوع پر جوں کی توں صورتحال (اسٹیٹس کو) برقرار رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے، جس سے مقامی مسلم آبادی اور مسجد کمیٹی نے فوری طور پر راحت کی سانس لی ہے۔

ملی معلومات کے مطابق، یہ پورا تنازع بہرائچ-نانپارہ نیشنل ہائی وے (NH-927) کو چوڑا کرنے کے منصوبے کے دوران شروع ہوا۔ این ایچ اے آئی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر پرشانت کمار باجپئی نے 15 جون کو سٹی مجسٹریٹ کو ایک باضابطہ مکتوب ارسال کیا تھا، جس میں سہروا کازی جوت گاؤں میں واقع ‘کیلو مسجد’ (رجسٹرڈ وقف نمبر 1249، مسجد سہروا) کو مبینہ تجاوزات قرار دیتے ہوئے 16 جون کو اسے ہٹانے کے لیے پولیس فورس کی بھاری نفری فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ این ایچ اے آئی کا یہ سرکاری خط جیسے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، پورے علاقے میں شدید تشویش، بے چینی اور خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ کیلو مسجد تقریباً 200 سال پرانی تاریخی عبادت گاہ ہے، جہاں ہر جمعہ کو 600 سے 700 کے قریب مسلمان نماز ادا کرتے ہیں، اور اسے محض ایک سڑک کی توسیع کے لیے بغیر کسی ٹھوس متبادل اور قانونی ضابطے کے گرانے کی تیاری کی جا رہی تھی۔

سوشل میڈیا پر عوامی غصے اور احتجاج کے بعد ضلع مجسٹریٹ اکشے تریپاٹھی نے ابتدائی طور پر اس مہم کو روکتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی تھی کہ تمام قانونی لوازمات، زمین کی پیمائش اور فریقین کو باضابطہ پیشگی نوٹس دیے بغیر کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ تاہم، انتظامیہ کے غیر یقینی رویے اور ملک بھر میں مساجد کو نشانہ بنانے کے حالیہ رجحان کو دیکھتے ہوئے مسجد کے متولی (کئیر ٹیکر) شاہد احمد اور دیگر مقامی باشندوں نے ایڈوکیٹ سیدہ کرم آزاد کے ذریعے فوری طور پر الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ درخواست گزاروں نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ یہ مسجد وقف ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ایک تاریخی اثاثہ ہے اور این ایچ اے آئی کی جانب سے اسے یکطرفہ طور پر تجاوزات قرار دینا قانوناً غلط اور مذہبی آزادی پر حملہ ہے۔

ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے اس درخواست پر فوری سماعت کرتے ہوئے این ایچ اے آئی اور اتر پردیش حکومت کو کڑی پھٹکار لگائی اور ریاستی حکومت کو اس پورے معاملے پر اپنا تفصیلی جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔ ججوں نے واضح کیا کہ ہائی ویز کی توسیع عوامی مفاد میں ضروری ہو سکتی ہے، لیکن صدیوں پرانی عبادت گاہوں کو گرانے کے لیے تمام آئینی اور قانونی حدود کا پاس رکھنا ناگزیر ہے۔ عدالت نے اس حساس کیس کی اگلی سماعت 22 جون کے لیے مقرر کی ہے، جہاں زمین کی ملکیت اور دونوں فریقین کے دعووں کی سائنسی اور ریونیو ریکارڈز کی بنیاد پر جانچ کی جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یوپی جیسے حساس صوبے میں جہاں ‘بلڈوزر جسٹس’ کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں، وہاں ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ قانون کی بالادستی اور مسلم اقلیت کے حقوق کے تحفظ کی سمت میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

شیئر کریں۔