تہواروں کے سیزن سے قبل بازار میں چینی کی وافر فراہمی کو یقینی بنانے اور ممکنہ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے مرکزی حکومت نے تاجروں کے لیے چینی اسٹاک کرنے کی مقررہ حد نصف کر دی ہے۔ وزارت برائے امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے تحت اب ہول سیل تاجروں کے لیے چینی ذخیرہ کرنے کی حد 4 ہزار کوئنٹل سے گھٹا کر 2 ہزار کوئنٹل کر دی گئی ہے، جس کا باقاعدہ نفاذ 15 ستمبر سے 30 نومبر تک رہے گا۔
سرکاری احکامات کی رو سے ملک بھر میں کوئی بھی تاجر اسٹاک موصول ہونے کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ 30 دنوں تک ہی مال اپنے پاس رکھ سکے گا اور کسی بھی وقت کل اسٹاک کی مقدار 2 ہزار کوئنٹل سے تجاوز نہیں کرے گی۔ البتہ مشرقی اور شمال مشرقی ریاستوں کی مخصوص جغرافیائی اور تجارتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کولکاتہ اور اس کے مضافاتی میٹروپولیٹن علاقوں کے لیے سابقہ 4 ہزار کوئنٹل کی حد برقرار رکھی گئی ہے، کیونکہ یہ خطہ اتر پردیش اور مہاراشٹر سے چینی منگوا کر مشرقی علاقوں میں سپلائی چین برقرار رکھنے کا مرکزی ذریعہ ہے۔
حکومت کے اس تدارکی اقدام کا بنیادی مقصد مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کرنا اور قیاس آرائی پر مبنی تجارت کا خاتمہ کرنا ہے۔ اگست کے مہینے میں 4 ہزار کوئنٹل کی حد نافذ کی گئی تھی، تاہم تہواروں کے دوران بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے قوانین کو مزید سخت کیا گیا ہے تاکہ گھریلو صارفین کو مناسب نرخوں پر بغیر کسی تعطل کے چینی دستیاب ہو سکے۔
وزارت خوراک نے ملک گیر سطح پر شوگر ملوں، بڑے ڈیلروں اور تھوک تاجروں کے گوداموں کی فزیکل ویریفکیشن اور سخت مانیٹرنگ کا عمل بھی شروع کیا ہے۔ سرکاری نگرانی کے نتیجے میں اسٹاک کی نقل و حرکت میں شفافیت آئی ہے اور مارکیٹ میں وافر سپلائی آنے کے باعث ملوں سے نکلنے والی چینی کی ایکس مل قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے، جس کے مثبت اثرات اب بتدریج ریٹیل مارکیٹ اور عام صارفین تک بھی پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ آنے والے ہفتوں کے دوران ملک بھر کے گوداموں اور ڈیلرشپس پر فزیکل انسپیکشن کا سلسلہ بلاتعطل جاری رہے گا۔ جو کاروباری ادارے یا ڈیلرز اسٹاک کے ڈیٹا میں بے ضابطگی، غلط بیانی یا قانون سے زائد مقدار ذخیرہ کرنے کے مرتکب پائے جائیں گے، ان کے خلاف متعلقہ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی اور مال ضبطگی کے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔




