نیتن یاہو کے دفتر پر بیلسٹک میزائل حملہ: پاسدارانِ انقلاب کا دعوی

پاسداران انقلاب کے شعبۂ تعلقات عامہ نے پیر کو ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ ’’مجرم اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر اور حکومت کی فضائیہ کے کمانڈر کے مقام کو خیبر شکن بیلسٹک میزائلوں سے دسویں لہر کے دوران نشانہ بنایا گیا اور اچانک حملہ کیا گیا۔‘‘ بیان کے مطابق حملہ بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے کیا گیا، جس میں ’’خیبر شکن‘‘ میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔

اسرائیلی ردعمل اور صورتحال
بنجامن نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے خبر کی اشاعت تک کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا تھا۔ ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ سوشل میڈیا پر بعض غیر مصدقہ دعوے سامنے آئے کہ نیتن یاہو جرمنی منتقل ہو گئے ہیں، تاہم اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے واضح کیا کہ انہوں نے اتوار یکم مارچ کو تل ابیب میں وزیر دفاع، چیف آف اسٹاف اور موساد کے ڈائریکٹر سے ملاقات کی تھی۔

وسیع تر علاقائی تناظر
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران نے اعلان کیا تھا کہ وہ بدلہ لینے کو اپنا ’’حق اور فرض‘‘ سمجھتا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جسے اسرائیل نے ’’آپریشن لائنز رور‘‘ اور امریکہ نے ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کا نام دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق اسی کارروائی کے دوران سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے اس حملے کو جاری جوہری مذاکرات کے دوران ’’قبل از وقت جارحیت‘‘ قرار دیتے ہوئے امریکہ پر سخت تنقید کی تھی۔ تہران نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو اسرائیل کو اس کا براہِ راست جواب دیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں ’’علاقائی استحکام‘‘ متاثر ہو سکتا ہے۔

خلیجی ممالک اور امریکی اہداف
ایرانی حکام نے پیر کو کئی خلیجی ممالک میں حملے کئے اور کہا کہ کویت میں ایک امریکی ایف ۱۵؍ لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا ہے۔ ایران نے بارہا کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ اور امریکہ کے درمیان تعلقات اور مذاکرات کسی بیرونی مداخلت کے بغیر ہونے چاہئیں۔ تہران نے اسرائیل پر خطے کو کشیدگی کی طرف دھکیلنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ فی الحال، دونوں فریقین کی جانب سے سرکاری سطح پر متضاد بیانات اور غیر مصدقہ اطلاعات کے باعث صورتِ حال غیر واضح ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ کشیدگی محدود فوجی تبادلوں تک رہے گی یا ایک وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل ہو جائے گی۔