راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سپریمو لالو پرساد یادو کو زمین کے بدلے نوکری معاملے میں سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سپریم کورٹ نے ان کے خلاف درج ایف آئی آر اور اس سے متعلق کارروائی پر روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے پیر کو ریلوے کے سابق وزیر لالو یادو سے کہا کہ وہ بغیر آئینی منظوری لئے سی بی آئی کی طرف سے جانچ کرنے سےمتعلق اپنے اعتراضات کو مقدمے کے دوران اٹھائیں۔ اس دوران سپریم کورٹ نے انہیں مقدمے کی سماعت کے دوران ٹرائل کورٹ میں ذاتی حاضری سے استثنیٰ دے دیا ہے۔
لالو پرساد یادو نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے لالو یادو کو جھٹکا دیتے ہوئے معاملے میں سی بی آئی کی ایف آئی آر منسوخ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی 3 چارج شیٹ اور ان پر نچلی عدالت کے نوٹس کو بھی درست ٹھہرایا تھا۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ اس عرضی پر سماعت کررہی ہے جس میں لالو یادو نے زمین کے بدلے نوکری معاملے میں ان کے اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف درج بدعنوانی کے مقدمے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ معاملہ 2004 اور 2009 کے درمیان ریلوے کی بھرتیوں میں دھوکہ دہی سے متعلق ہے، اس دوران لالو یادو مرکزی وزیر ریلوے تھے۔
جنوری 2026 میں دہلی کی راؤس ایونیو کی خصوصی عدالت نے اس کیس میں لالو پرساد یادو اور دیگر ملزمان کے خلاف سخت تبصرے کیے تھے اور ان کے خلاف الزامات طے کردیئے تھے۔ عدالت نے کہا تھا کہ لالو پرساد یادو، ان کے خاندان کے افراد اورباقی ملزمان نے ایک کریمنل انٹرپرائزز کی طرح کام کیا۔ زمین کے بدلے نوکری گھپلے میں راؤس ایونیو کورٹ نے 41 ملزمان کے خلاف الزامات طے کیے تھے۔



