واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے کلیدی اتحادیوں اسرائیل، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کو مجموعی طور پر 6.8 بلین ڈالر سے زائد کے جدید ترین فوجی ساز و سامان اور ہتھیاروں کی فروخت کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ اہم پیش رفت ایک ایسے حساس وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم کو نو ہفتے مکمل ہو چکے ہیں اور پاکستان کی ثالثی میں قائم ہونے والی نازک جنگ بندی کو ابھی بمشکل تین ہفتے ہی گزرے ہیں۔ اس منظوری کو خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے اور اپنے اتحادیوں کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی ایک بڑی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس دفاعی پیکیج کا سب سے بڑا حصہ قطر کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ دوحہ کو 4.01 بلین ڈالر مالیت کے پیٹریاٹ فضائی اور میزائل دفاعی نظام کی تجدید کی خدمات فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ قطر کو 992.4 ملین ڈالر مالیت کا ‘ایڈوانسڈ پریسجن کِل ویپن سسٹم’ (APKWS) بھی دیا جائے گا۔ کویت کو 2.5 بلین ڈالر کی مالیت کا مربوط جنگی کمانڈ سسٹم فروخت کیا جائے گا، جبکہ اسرائیل کے لیے بھی 992.4 ملین ڈالر مالیت کے اسی جدید ترین پریسجن کِل ویپن سسٹم کی منظوری دی گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات اس فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے جسے 147.6 ملین ڈالر کا جنگی ساز و سامان فراہم کیا جائے گا۔
اس بڑے دفاعی سودے میں امریکہ کی صف اول کی دفاعی کمپنیاں شامل ہیں۔ قطر، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کو فراہم کیے جانے والے ویپن سسٹمز کا بنیادی ٹھیکیدار ‘بی اے ای سسٹمز’ ہوگا، جبکہ کویت کے لیے مربوط کمانڈ سسٹم اور قطر کے پیٹریاٹ نظام کی تجدید کی ذمہ داری ‘آر ٹی ایکس’ (RTX) اور ‘لاک ہیڈ مارٹن’ جیسی معروف کمپنیوں کو سونپی گئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی ترسیل سے امریکی دفاعی صنعت کو بڑا فروغ ملے گا، تاہم اس سے خطے میں ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ اور اسرائیل نے رواں برس فروری کے اواخر میں ایران پر حملے شروع کیے تھے، جس کے جواب میں تہران نے خلیج میں امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ اگرچہ گزشتہ ماہ سے جنگ تعطل کا شکار ہے اور مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، لیکن صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ ایران نے تاحال آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت برقرار رکھی ہے جس سے عالمی سطح پر تیل، گیس اور کھاد کی رسد متاثر ہو رہی ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے بھی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس سے معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
مستقبل کی صورتحال اب ان مذاکرات پر منحصر ہے جو پاکستان کی ثالثی میں انجام پا رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں ایران کی نئی مذاکراتی تجویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایک جامع تجویز ثالث ملک پاکستان کے حوالے کر دی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ہتھیاروں کی اس تازہ منظوری نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ واشنگٹن سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ اپنے اتحادیوں کو عسکری طور پر لیس رکھنے کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔



