امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ بحری ناکہ بندی کے اعلان نے عالمی سطح پر توانائی بحران کو مزید شدید کرنے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان تمام جہازوں کو روک سکتی ہے جو ایران کو ادائیگی کرتے ہیں۔ اس اعلان کے فوری بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جس سے عالمی معیشت میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت دی ہے کہ یہ ناکہ بندی مکمل طور پر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے بجائے صرف ایران کی بندرگاہوں میں داخل اور خارج ہونے والے جہازوں تک محدود ہوگی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ عملی طور پر اس اقدام کا اثر پورے خطے کی سمندری تجارت پر پڑے گا اور جہاز رانی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے انشورنس اخراجات اور سیکیورٹی خدشات کے باعث غیر ایرانی جہاز بھی اس راستے سے گریز کریں گے۔
تجزیہ کار ٹریٹا پارسی کے مطابق اگر اس اقدام کے جواب میں یمن میں ایران سے منسلک حوثی گروہ باب المندب آبنائے کو بند کر دیتے ہیں تو تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ یہ صورتحال خلیجی ممالک کے لیے بھی خطرناک ہوگی کیونکہ باب المندب متبادل راستہ ہے جہاں سے تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ دوسری جانب ایران پہلے ہی 28 فروری سے جاری امریکی و اسرائیلی کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز میں سخت نگرانی کر رہا ہے، جس کے باعث ہزاروں جہاز متاثر ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بحران کے اثرات صرف تیل اور گیس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کیمیکلز، کھاد اور پلاسٹک کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آسکتا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ سپلائی چین پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور اگر یہ صورتحال طویل ہو گئی تو خوراک کی پیداوار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ اقدام امریکی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ کچھ ہی عرصہ قبل امریکہ نے ایران کی تیل برآمدات پر کچھ پابندیاں نرم کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ عالمی توانائی بحران کو کم کیا جا سکے۔ اب اچانک سخت مؤقف نے عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ امریکی ناکہ بندی صرف ایک فوجی یا سیاسی اقدام نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات دنیا کے ہر خطے میں محسوس کیے جائیں گے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک اس سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔



