dushwari

توشا ہیں ہے

(فکروخبر اداراتی تحقیقی مضمون)

اسلام نے نوجونوں کو خاص مقام عطا کیا ہے اور ان کو مستقبل کا معمار ، انسانی قیادت کا سپہ سالار قرار دیا ہے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے سبھی نوجونوں کو اہمیت دی اور مرکز توجہ بنایا۔ نوجوانوں نے تاریخ اسلام میں اسلامی زندگی کی بہترین نمائندگی کی اور اخلاقی بلندی و عظمت اسلام کا پیغام مستقبل میں آنے والی نسلوں اور قوموں تک پہنچایا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ نوجوانوں میں حضرت علی، حضرت خالد بن الولید اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم وغیرہ ہیں۔ جو دین کے محافظ ، سپاہی اور دین اسلام کے خاطر جان کی بازی ہار جانے والوں میں تھے۔

لیکن آج جس زمانہ میں ہم اور آپ زندگی گزار رہے ہیں، فتنوں کی گرم بازاری اور آپسی کشمکش جہاں ہر فرد کو متاثر کر رہی ہے وہیں قافلۂ حیات کے قائد نوجوانوں کو مذہبی و فکری، علمی وعملی میدانوں سے دور کردیا ہے جس کے نتیجے میں ابھرنے والی طبیعتیں بجھ گئی ہیں۔ زندگی سے حرارت ختم ہوگئی ہے اور حرکت و عمل کا جذبہ سرد پڑ گیا ہے۔
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ جو ایمانی جوش کے شاعر ہیں، جنکی شاعری نوجوانوں کے لئے انقلاب کا باعث ہے، جب انہوں نے نوجوانوں کو آہ و سوز ، درد وتپش اور فکرو بصیرت سے خالی پایا تو وہ تڑپ اٹھے اور ایک ’’ نوجوان کے نام‘‘ پیغام میں اپنے احساسات کو بڑی خوبی اور وضاحت سے اس طرح پیش کیا:
ترے صوفے ہیں افرنگی، ترے قالیں ہے ایرانی... لہو مجھ کو رلاتی ہے، جوانوں کی تن آسانی
امارت کیا شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل.... نہ زور حیدری تجھ میں، نہ استغنائے سلمانی
نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میں.... کہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانی
(تہذیب حاضر کی یہ ظاہری چمک دمک، یہ ایرانی قالین اور افرنگی صوفے نوجونوں کے لئے سم قاتل ہیں،اسلامی نوجوان تو وہ ہیں جو قوت و تونائی سے بھرپور ، سادگی و دلآویزی سے لبریز، خارا شگافی کا خواہشمند، سخت کوش، بادبیابانی کی خاموشی و دل سوزی، سر مستی و رعنائی کا متلاشی ہو، جوانوں کے اندر عقابی روح کو بیدار کردے تاکہ انکو اپنی منزل آسمانوں میں نظر آئے)
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے انکو اپنی منزل آسمانوں میں
نہ ہو نومید، نومیدی زوال علم و عرفاں ہے امید مرد مومن ہے خدا کے رازدانوں میں
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کی گنبد پر تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
آج کا نوجوان اسلام کے بجائے دوسرے فلسفوں اور ظاہری چمک دمک سے متاثر اور مرعوب ہے جبکہ یہ کوئی حقیقت نہیں رکھتے، صرف اسلام ہی ایک حقیقت ہے جو بنی نوع انساں کے لئے ہر نقطۂ نگاہ سے موجب نجات ہوسکتی ہے۔دشمنان اسلام نے خصوصا مسلم نوجوانوں کو اپنا ہدف بنایا اور منظم کوشش و سازش رچی کہ مسلمان نوجوانوں کے سینوں میں ایمان و یقین کی جو چنگاری دبی پڑی ہے جس طرح بھی ہوسکے بجھا دیا جائے اور عرب و عجم ہر جگہ انکی غیرت دینی و جذبۂ اسلامی کو فنا کردیا جائے کیونکہ یہی وہ جذبہ ہے جو ایک مسلم نوجوان کو ہر قسم
کی قربانی کے لئے آمادہ کرتا ہے اور طوفان سے بھڑ جانے کا عزم عطا کرتا ہے۔ چنانچہ مغرب اپنی ریزہ دوانیوں میں کامیاب ہوتا نظر آیا، جس نے ایسا نظام تعلیم جاری کیا، جس نے مسلمان نوجوانوں کے دل و دماغ سے دینی روح اور جذبۂ اسلامی اور فکراسلامی کو یکسر ختم کردیا۔اور ان میں ایسا مادی نقطۂ نظر پیدا کیا جو انہیں مادی زندگی کا رسیا اور عارض و فانی زندگی کا دلدادہ بنادے اور نوجوان خود اعتمادی سے خالی ہوجائے اور شک و ریب میں مبتلا ہوجائے۔
نوجوانوں کو نر غۂ اعداء میں دیکھ کر اور بجھی بجھی جمود سی زندگی گزارتے جوانوں کو دیکھ کر اقبال کی آنکھیں چھلک پڑیں اور دست دعا دراز کی:
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے... کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ ...کہ تو کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ علامہ اقبال نے اسلامی جوانوں کے دلوں سے اپیل کی اور انہیں زندگی کا پیغام سنایا اور خود شکنی، خود نگری کا سبق دے کر دشمن کے مقابلہ میں خارا شگافی کا طریقہ سکھایا۔
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر... نیا زمانہ، نئی صبح و شام پیدا کر
اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احسان... سفال ہند سے مینا و جام پیدا کر
مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے.... خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
خودی کے ساز میں ہے عمر جاوداں کا سراغ.... خودی کے سوز سے روشن ہیں امتوں کے چراغ
ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پرازی..... خواب کرگئی شاہیں بچوں کو صحبت زاغ
حیا نہیں ہے زمانہ کی آنکھ میں باقی ....خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
اب ضرورت ہے کہ جذبۂ اسلامی سے لبریز ہوکر عشق رسول کا جام طہور پی کر دیوانہ وار خدا کے دین کے غلبہ کی کوشش کی جائے اور اس صدی کے خاتمے سے پہلے پہلے کرہ ارض پر اسلام کا علم لہرایا جائے تو ساتوں آسمانوں سے اسکے لئے مرحبا کی صدائیں بلند ہونگی۔
ائے نوجوان دوستو! ہماری ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں اور ہمارے فرائض بہت بڑے ہیں، ہم پر اس امت کے دگنے حقوق ہیں، ہماری گردنوں میں بڑی بھاری امانت ہے اسلئے اب ضروری ہے کہ ہم اپنا موقف متعین کرلیں اور امت اسلامیہ کی حفاظت کرنے کیلئے کمر بستہ ہوکر اپنی جوانی کا امت کو خراج پیش کریں۔ 
جلال آتشِ برق و سحاب پیدا کر
اجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کر
تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر
جو ہوسکے تو خود اک انقلاب پیدا کر
(تحریک نوجونانِ اسلام/زید احمد ندوی/ص:۱۹)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES