dushwari

قومی دھارے کا عذاب!

عالم نقوی

پتہ نہیں کیوں، ہم اس نتیجے پر پہونچ رہے ہیں کہ وزارت عظمیٰ کا چھینکا کم از کم مودی کے بھاگوں تو نہیں ٹوٹنے والا۔ سنگھ پریوار اپنی پہلی لڑائی ہار گیا ہے۔ سیاست دانوں کی تمام تر بے ضمیری اور موقع پرستی، اور مسلمانوں کی حددرجہ بے بصیرتی کے باوجود سنگھ پریوار اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ سنگھ پریوار کی فساد تکنیک اور بم دھماکہ دہشت گردی تکنیک دونوں کے بھانڈے عرصہ ہوا پھوٹ چکے ہیں۔

الکشن کے پہلے کوئی تیسرا مورچہ یا چوتھا محاذ یا غیر کانگریسی غیر بھاجپائی پارٹیوں کا کوئی فیڈریشن بنے یا نہ بنے اور الکشن سے قبل چاہے(خدا نخواستہ) کوئی بڑا فرقہ وارانہ فساد ہی کیوں نہ ہو جائے یا کرنل پروہت کے سکھائے اور بھونسلے ملٹری اسکول کے تربیت یافتہ دہشت گرد کسی اور حساس مقام پر کوئی بم دھماکہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں، اب ووٹوں کا پولرائزیشن اس طرح نہیں ہو سکے گا کہ ماضی کے بدنام سیاسی لیڈر لاشوں پر کھڑے ہوکر اپنا قدبلند کر سکیں اور بے گناہوں کے خون کا غازہ اپنے چہروں پر مل کر سُرخروئی کا دعویٰ کر سکیں! انشاء اللہ۔
ہمیں معلوم ہے کہ مسلم قیاد ت کی اکثریت بھلے ہی ضمیر فروش اور بے حس ہو لیکن مسلمانوں کی اکثریت غیرت مند اور باضمیر ہے، اور یہ بھی کہ غیر مسلموں کی اکثریت صہیونیوں اور ان کے قدرتی حلیفوں کی طرح مسلمانوں کی دشمن نہیں۔ یہاں تک کہ یورپ اور امریکہ میں بھی جہاں صہیونی سامراج نے ’اسلاموفوبیا‘ (یعنی اسلام اور مسلمانوں کا مریضانہ خوف) پیدا کرنے کے لیے اربوں کھربوں ڈالر صرف کرڈالے ہیں وہاں بھی انہیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔ اسلام دنیا کا واحد دین ہے جو پھیل رہا ہے، بڑھ رہا ہے۔ خود وطن عزیز میں ہندوؤں کی 40فی صد تعداد یعنی کم از کم ساٹھ کروڑ ہندو، جن میں اکثریت دلتوں، پسماندہ طبقوں اور قبائلیوں کی ہے اپنے دل میں نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ اسلام کے لیے بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں اور اپنے محسنوں کے منتظر ہیں۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ پھر مسلمان کیاکریں؟ ہمارا ایک ہی جواب ہے کہ ’’مسلمان ہو جائیں‘‘! یعنی ہر طرح کے ظلم اور اخلاقی و سماجی جرائم کے ’قومی دھارے‘(بلکہ بین الاقوامی دھارے) سے نکل کے پوری طرح اسلامی دھارے میں شامل ہو جائیں۔ گزشتہ چند برسوں میں گینگ ریپ، قتل رہزنی اور دیگرPetty Crimesکی جتنی وارداتیں ہوئی ہیں اُن میں مسلمانوں کی شمولیت کاتناسب مجموعی آبادی میں ان کے تناسب سے زیادہ ہے۔ یعنی مسلمان ان تمام جرائم میں ملوث ہیں جو قومی دھارے والے مجرموں کا خاصّہ ہیں۔ اگر مسلمان، مسلمان ہونے اور کہلانے کے باوجود خود کو گناہوں اور جرائم میں ملوث ہونے سے نہیں بچا پاتے تو قصور اسلام کا نہیں خود ان کا ہے۔ یا تو وہ صرف نام کے مسلمان ہیں جیسے ممبئی گینگ ریپ کے مجرم چاند، سلیم، اشفاق اور قاسم یاپھر اسلام صرف اُن کے گلوں میں اٹکا ہوا ہے، حلق سے نیچے نہیں اُترا ہے اور ان کادل اسلام سے خالی ہے۔ اس دوسرے زمرے میں وہ تمام مسلمان شامل ہیں جو عمل صالح کرنے، انفاق کرنے، سود سے بچنے، کسی بھی طرح کے ظلم سے اپنے ہاتھوں کو روکنے کی ہمہ وقت، مسلسل شعوری کوشش کرتے رہنے کے بجائے ’مسلک اور مذہب کے غرور‘ میں مبتلا ہیں۔ وہ سب جو خود کو اچھا اور دوسرں کو برا، خود کو جنَّتی اور دوسروں کو جہنمی سمجھنے کے گھمنڈ میں گرفتار ہیں وہ سب اسی دوسرے زمرے میں شامل ہیں۔ تو ہمارے نام نہاد قومی دھارے والے ان تمام امراض کا علاج اِس کے سِوا اور کچھ نہیں کہ ہم فوراً خالص اسلامی دھارے میں شامل ہو جائیں اور اُدخلوافی السِلمِ کافّہ کے قرآنی معیار پر کھرا اترنے کی کوشش میں اپنی بقیہ زندگی صرف کردیں۔یادرکھیے مُستقبل اَمن و انسانیت اور عدل و قسط کی بحالی کا ہے، بدامنی شیطنت اور ظلم و عُدوان کا نہیں۔ قرآن ہمیں یہی بتاتا ہے اور امن و عدل و انسانیت کے قیام کے لیے قرآن سے بہتر کوئی معیار،کوئی Standardدنیا میں نہیں ہے۔ فھل من مدکر؟

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES