dushwari

عید کا دن

عبدالاحد فکردے ندوی

’’عید‘‘ زبان عربی کا لفظ ہے جس کے معنی اردو میں لوٹنے کے ہیں۔ عید خوشی کا دن ہے اور یہ دن لوٹ لوٹ کر ہر سال آتا ہے۔ بالفظ دیگر گو یا یہ دعا ہے کہ خوشی کا یہ دن بار بار آپ کی زندگی کی زینت بنتا رہے۔

شریعت اسلامیہ وہ جامع شریعت ہے جو قیامت تک آنے والے انسانوں کی فلاح و صلاح کا ضامن ہے۔ یہ وہ دین فطرت ہے جو انسانوں کے فطری تقاضوں سے نہ صرف یہ کہ واقف ہے بلکہ انسانوں کے فطری تقاضوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اور یہ بات مسلم ہے کہ دنیا میں کوئی قوم اور کوئی انسانی معاشرہ ایسا نہیں جس میں کسی خاص دن یا کچھ خاص دنوں کو تہوار کے طور پر منانے کا رواج اور تصور نہ ہو۔ تہواروں کے تصور و رواج کی یہ قدامت پسندا اس بات کی عکاس ہے کہ اس کی بنیاد میں انسانی فطرت کا تقاضہ شامل ہے لہذا اسلام نے بھی ایسے دو دن تہوار کے مقرر کئے ہیں جن کو مذہبی و ملی تہوار کی حیثیت دی گئی ہے۔ ایک عید الفطر جو اختتام رمضان پر اسلام کے ایک بنیادی رکن روزوں کی تکمیل پر مومنین کے لئے تحفہ ہے تو دوسرے عید الاضحی جو اسلام کے تکمیلی رکن حج سے فراغت پر مومنین کے لئے خوشی کی سوغات لاتا ہے۔ چنانچہ ابوداؤد شریف میں حضرت انسؓ کی روایت موجود ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ والوں نے دو دن مقرر کر رکھے تھے جس میں وہ خوشیاں مناتے اور کھیل کود کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا یہ دونوں دن کیسے ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا کہ جاہلیت میں ہم ان دونوں میں کھیل کیا کرتے اور خوشیاں منایا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اللہ تعالی نے تمھارے لئے ان دو دنوں کے بدلہ ان سے بہتر دو دن مقرر کئے ہیں۔ ایک عید الاضحی کا دن اور دوسرے عید الفطر کا دن۔
خوشی کے ان موقعوں پر بھی شریعت اسلامیہ نے اپنے ماننے والوں کو شطر بے مہار کے طرح نہیں چھوڑا بلکہ ان ایام کو گذارنے کے بھی حد و دو قیود متعین کئے گئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ خوشی کے ان موقعہ میں انسان حد ود بشریت کو تجاوز کرجائے۔ جیسا کہ باطل ادیان وملل کے تہواروں کا ہم آئے دن اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں ۔ لہذا عید کے دنوں میں عیدین کی نماز مشروع ہوئی ۔ عیدین کی نماز اس امت کی ؂خصوصیت ہے ۔ سن ۲ ہجری میںآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید الفطر ادا کی نیز عیدین کی رات عبادات کے لئے بیدار رہنا مستحب ہے ۔ دار قطنی کی روایت میں ہے کہ جو شخص عیدین کی رات بیدار رہے تو اس کا دل اس دن نہیں مرے گا جس دن سارے دل مردہ ہوجائیں گے ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم تک یہ روایت پہونچی ہے پانچ راتوں میں دعا قبول ہوتی ہے ۔ جمعہ کی ، عیدین کی ، رجب کی پہلی اور نصف شعبان کی رات (تحفۃ الباری ۔ جلد اول ۔ ص ۲۷۳) اسی طرح تکبیرات کا پڑھنا ، عیدین کے لئے غسل کرنا ، خوشبو لگانا ، موئے زیر ناف وبغل صاف کرنا ، ناخن تراشنا ، بدبو زائل کرنا اور اچھے کپڑے پہنا بھی سنت ہے ۔ شارع علیہ السلام نے عیدین منانے کا جو طریقہ بتایا ہے کہ اس میں اصل حیثیت نماز عید کو حاصل ہے ۔ چنانچہ عیدین کی نماز امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک واجب ہے ، جب کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور جمہور کے نزدیک سنت مؤکدہ ہے ۔ عورتوں کو گھروں میں نمازعید باجماعت ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ عیدین ان رسمی تہواروں کی طرح نہیں ہیں جن میں بنیادی طور پر اس بات کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ وہ لذت و تفریح اور نفسانی لطف اندوزی کا سامان فراہم کریں اور لہو و لعب میں مشغول رکھیں۔ بلکہ مومن کی حقیقی عید اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی کا حصول ہے۔ اور عید بھی حق تعالی کی بندگی کا دن ہے۔ لہذاعید کے دنوں میں جشن و خوشی کی ایسی سرگرمی اختیار نہ کی جائیں جو اسلام کی شان اور روح کے منافی ہوں۔ تو دوسری طرف تفریح ومسرت کے ایسے کام جس میں فحش و برائی نہ ہو اور جن کے ذریعہ دین سے تجاوز نہ ہوتاہو، اختیا کر لئے جائے تو کوئی حرج نہیں۔ ان اسلامی تہواروں کی بنیادی حیثیت یہ ہے کہ اسلام کے ماننے والوں کو ان کی دینی و ملی ذمہ داریاں یاددلائی جائیں اور ملی اجتماعیت کے صحیح شعور کا سبق دیا جائے۔
کہنے والے نے صحیح کہا ہے کہ عید اس کی نہیں جو نئے کپڑے پہن لے، عید تو اس کی ہے جو تقوی کا لباس زیت تن کرے۔عید اس کی نہیں جو عود کا دھواں لے، عید تو اس کی ہے جو صیام و قیام کی پابندی کرے۔ عید اس کی نہیں جو فرش بچھائے، عید تو اس کی ہے جو اس دنیا میں احکام خداوندی پر عمل کر کے آخرت میں پل صراط پر سے مامون گذر جائے۔

Eid Card

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES