dushwari

شریعتِ اسلامی میں رویت ہلال کی اہمیت

اداراتی تحقیقی مضمون 

شریعتِ اسلامی نے خاص اعمال وعبادات کے لیے جو مخصوص اوقات یا دن زمانے مقرر کئے ہیں ان کی تعیین میں اس بات کا خصوصیت سے لحاظ رکھاگیا ہے کہ اس وقت یا دن یا اس زمانہ کا جاننا پہچاننا کسی علم یا فلسفہ پر یا کسی آلہ کے استعمال پر موقوف نہ ہو

بلکہ ایک عامی اور بے پڑھا دیہاتی آدمی بھی مشاہدہ سے اس کو جان سکے ۔ اسی لیے نماز اور روزے کے اوقات سورج کے حساب سے مقرر کئے گئے ۔ مثلاٰ فجر کا وقت صبحِ صادق سے لے کر طلوعِ آفتاب تک کا مقرر کیا گیا ۔ ظہر کا وقت سورج کے نصف النہار سے ڈھل جانے کے بعد سے اک مثل یا دو مثل سایہ ہوجانے تک اور عصر کا وقت اس کے بعد سے غروب آفتاب تک کا رکھا گیا ، اسی طرح مغرب کا وقت غروب آفتاب کے بعد سے شفق کے رہنے تک اور عشاء کا شفق کے غائب ہوجانے کے بعد بتایا گیا ۔ ایسا ہی روزہ کا وقت صبح صادق سے لیکر غروبِ آفتاب تک کا رکھا گیا ۔ ظاہر ہے کہ ان اوقات کے جاننے کے لیے کسی علم یا فلسفہ کی اور کسی آلہ کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ ہر آدمی اپنے مشاہدہ سے ان کو جان سکتا ہے ۔، او رجس طرح عوام کی سہولت کے پیشِ نظر نماز اور روزہ کے ان اوقات کے لیے سورج کے طلوع وغروب اور اُتار چڑھاؤ کو معیار اور نشان قرار دیا گیا ، اسی طرح زکوٰۃ اور حج اور روز ہ وغیرہ ان اعمال اور عبادات کے لیے جن کا تعلق مہینے یا سال سے ہے چاند کو معیار قرار دیا گیا اور بجائے شمسی سال اور مہینوں کے قمری سال اور مہینوں کا اعتبار کیا گیا ، کیونکہ عوام اپنے مشاہدہ سے قمری مہینوں ہی کو جان سکتے ہیں ، شمسی مہینوں کا آغاز پر کوئی ایسی علامت آسمان یا زمین پر ظاہر نہیں ہوتی جس کو دیکھ کر ہر عامی آدمی سمجھ سکے کہ اب پہلا مہینہ ختم ہوکر دوسرا مہینہ شروع ہوگیا ، ہاں قمر ی مہینوں کا آغاز چونکہ چاند نکلنے سے ہوتا ہے اس لئے ایک اَن پڑھ دیہاتی بھی آسمان پر نیا چاندیکھ کر جان لیتا ہے کہ پچھلا مہینہ ختم ہوکر اب اگلا مہینہ شروع ہوگیا ۔ 
بہر حال شریعتِ اسلامی نے مہینے او رسال کے سلسلے میں نظام قمری کا جو اعتبار کیا ہے اس کی ایک خاص حکمت عوام کی یہ سہولت بھی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم سنایا ، تو یہ بھی بتایا کہ رمضان کے شروع یا ختم کا ضابطہ او ر معیار کیا ہے ۔ آپ نے بتایا کہ شعبان کے ۲۹ دن پورے ہونے کے بعد اگر چاند نظر آجائے تو رمضان کے روزے شروع کردو اور اگر ۲۹ ویں کو چاند نظر نہ آئے تو مہینہ کے تیس دن پورے کر کے روزے شروع کرو او راسی طرح رمضان کے روزے ۲۹ یا ۳۰ رکھو ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف موقعوں پر رویتِ ہلا ل کے متعلق اور سب ضروری ہدایت دیں ۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل حدیثیں پڑھئے ۔ 
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے ایک موقع پر رمضان کا ذکر فرمایا ، اس سلسلہ میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ :۔ رمضان کا روزہ اس وقت تک مت رکھو جب تک کہ چاند نہ دیکھ لو اور روزوں کا سلسلہ ختم نہ کرو جب تک کہ شوال کا چاند نہ دیکھ لو اور اگر ۲۹ کو چاند دکھائی نہ دے تو اس کا حساب پورا کرو ( یعنی مہینے کو ۳۰ دن کا سمجھو ) ۔ (صحیح بخاری ومسلم ) 
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :۔ چاند دیکھ کر روزے رکھو اور چاند دیکھ کر روزے چھوڑدو اور اگر( ۲۹ تاریخ کو )چاند دکھائی نہ دے تو شعبان کی ۳۰ کی گنتی پوری کرو ۔ (صحیح بخاری ومسلم ) 
(تشریح )مطلب یہ ہے کہ رمضان کے شروع ہونے اور ختم ہونے کا دارومدار رویتِ ہلال ( یعنی چاند دکھائی دینے ) پر ہے ۔ صرف کسی حساب اور قرینہ وقیاس کی بنا پر اس کا حکم نہیں لگایا جاسکتا ۔ پھر رویتِ ہلال کا ثبوت کی ایک شکل تو یہ ہے کہ خود ہم نے اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھا ہو اور دوسری صورت یہ ہے کہ کسی دوسرے نے دیکھ کے ہم کو بتایا ہو اور وہ ہمارے نزدیک قابلِ اعتبار ہو ۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں بھی کبھی کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دیکھنے والے کی اطلاع اور شہادت پر رویتِ ہلال کو مان لیا ، اور روزہ رکھنے یا عید کرنے کا حکم دے دیا ۔ جیسا کہ آگے درج ہونے والی بعض احادیث سے معلوم ہوگا ۔ 
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔ رمضان کے لحاظ سے شعبان کے چاند کو خوب اچھی طرح گنو ۔ 
( تشریح)مطلب یہ ہے کہ رمضان کے پیشِ نظر شعبان کا چاند دیکھنے کا بھی خاص اہتمام کیا جائے اور اس کی تاریخیں یاد رکھنے کی خاص فکر اور کوشش کی جائے اور جب ۲۹ دن پورے ہوجائیں تو رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش کی جائے ۔ 
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کے دن اور اس کی تاریخیں جتنے اہتمام سے یاد رکھتے تھے اتنے اہتمام سے کسی دوسرے مہینے کی تاریخیں یاد نہیں رکھتے تھے پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے تھے اور اگر (۲۹ شعبان کو) چاند دکھائی نہ دیتا ہو تو ۳۰ دن شمار پورا کرکے پھر روزے رکھتے تھے ۔ (سنن ابی داؤد) 
خبر او رشہاد ت سے چاند کا ثبوت 
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بدوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے بتایا کہ اس نے آج چاند دیکھا ہے (یعنی رمضان کا چاند ) ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا :۔ کیا تم لاالہ الّا اللہ کی شہادت دیتے ہو ؟ اس نے عرض کیا : ہاں میں لا الہ الّا اللہ کی شہادت دیتا ہوں ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کیا تم محمد رسول اللہ کی شہادت دیتے ہو؟ اس نے کہا ہاں ۔ (یعنی میں توحید ورسالت پر ایمان رکھتا ہوں ، مسلمان ہوں ،)اس تصدیق کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں میں اس بات کا اعلان کردو کہ کل سے روزے رکھیں ۔ (سنن ابی داؤد ، جامع ترمذی ، سنن نسائی ، سنن ابن ماجہ ، مسجد دارمی )
تشریح:۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رویتِ ہلال کی شہادت یا اطلاع قبول کرنے کے لئے ضروری ہے کہ شہادت یا اطلاع دینے والا صاحبِ ایمان ہو کیونکہ وہی اس کی نزاکت اوراہمیت کو اور اس کی بھاری ذمہ داری کو محسوس کرسکتا ہے ۔ 
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں نے رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش کی ( لیکن عام طور پر لوگ دیکھ نہ سکے ) تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ میں نے چاند دیکھا ہے تو آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ بھی روزے رکھیں ۔ ( سنن ابی داؤد ، مسند دارمی ) 
تشریح: ۔ ان دونوں حدیثوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کا چاند ثابت ہونے کے لیے صرف ایک مسلمان کی شہادت اس صورت میں کافی ہوسکتی ہے ۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مشہور قول کے مطابق ایک آدمی کی شہادت اس صورت میں کافی ہوتی ہے جبکہ مطلع صاف نہ ہو ، ابریا غبار وغیرہ کا اثر ہو ، یا وہ شخص بستی کے باہر یا کسی بلند علاقہ سے آیا ہو ، لیکن اگر مطلع صاف ہو اور چاند دیکھنے والا آدمی بارہ سے یا کسی بلند مقام سے بھی نہ آیا ہو ، بلکہ اس بستی ہی میں چاند دیکھنے کا دعویٰ کرے جس میں باوجود کوشش کے اور کسی نے چاند نہ دیکھا ہو ، تو ایسی صورت میں دیکھنے والے اتنے آدمی ہونے چاہئیں جن کی شہادت پر اطمینان ہوجائے ، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور قول یہی ہے ۔ لیکن ایک روایت امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے یہ بھی ہے کہ رمضان کے چاند کے ثبوت کے لیے ایک دیندار اور قابلِ اعتبار مسلمان کی شہادت بہر حال کافی ہے ، اور اکثر دوسرے ائمہ کا مسلک بھی یہی ہے ۔ 
یہ جو کچھ بھی ذکر کیا گیا اس کا تعلق رمضان کے چاند سے ہے لیکن عید کے چاند کے ثبوت کے لیے جمہور ائمہ کے نزدیک کم سے کم دو دیندار اور قابلِ اعتبار مسلمانوں کی شہادت ضروری ہے ۔ دارقطنی او رطبرانی نے اپنی اپنی سند کے ساتھ عکرمہ تابعی سے روایت کیا ہے کہ : ایک دفعہ مدینہ کے حاکم کے سامنے ایک آدمی نے رمضان کا چاند دیکھنے کی شہادت دی ، اس وقت حضرت عبداللہ بن عمراور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم دونوں مدینہ میں موجود تھے ، والی مدینہ نے ان دونوں بزرگوں کی طرف رجوع کیا تو انہوں نے بتایا کہ اس ایک آدمی کی شہادت قبول کرلی جائے اور رمضان ہونے کا اعلان کردیا جائے اور ساتھ میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رویتِ ہلالِ رمضان کی ایک آدمی کی شہادت کو بھی کافی مانا ہے اور عید کے چاند کی شہادت دو آدمیوں سے کم کی آپ کافی نہیں قرار دیتے تھے ۔ (معارف الحدیث / مولانا محمد منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ ۔ ج/۴ صفحہ نمبر : ۱۲۲ تا ۱۲۹ )

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES