dushwari

رمضان کا استقبا ل کیسے کر یں ؟

ریسرچ ڈیسک

عز یز و ! رمضا ن المبا ر ک یعنی نیکیو ں کا مو سم آ نے جا رہا ہے ، دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب کہیں میلا لگتا ہے یا سیل لگتا ہے ، لو گ ٹو ٹ پڑ تے ہیں ، کیو نکہ دوفائد ے ہو تے ہیں ۔

(۱)۔۔۔بغیر کسی طویل مشقت کے آ سا نی کے سا تھ و افر مقد ار میں مطلو بہ چیز مل جا تی ہے ۔ 
(۲)۔۔۔ مطلو بہ چیز کم قیمت اور سستے دا م میں میسر ہو تی ہے ۔ 
بالکل یہی صور تِ حا ل رمضا ن المبا رک کی ہے کہ میلو ں اور سیلو ں میں جسمانی غذائیں آ سا نی سے کم سے کم دا م میں میسر ہوتی ہیں ، اور رمضا ن المبا رک میں رو حانی غذ ائیں کم مشقت میں زیا د ہ ثو ا ب کے سا تھ میسر ہو تی ہیں، گو یا اللہ کی جا نب سے سیل لگتا ہے ، کہ آ ؤ نیکیو ں کو لو ٹ کر لے جا ؤ ۔ کیسا رحیم و کریم اور مہر با ن پر و ر دگا ر ہے جو ہما ر ا اتنا خیال کر رہا ہے کہ ہم سا ل بھر کی کسر ، کو تا ہی اور نقصا ن کی بھر پا ئی کرسکیں ،ہمیں تلا فی ما فا ت کا مو قع دے رہا ہے ، گو یا اللہ چا ہتے ہیں کہ کسی طرح بھی میرا بندہ مغفرت کے قا بل ہو جا ئے ، رحمت خدا بہا نہ می جو ید ۔ اللہ کی رحمت بہا نہ تلاش کر تی ہے ، اور ایساکیو ں نہ ہو، اللہ نے تو ہمیں اپنے ہا تھ سے بنا یا ، دنیا کوہمارے لیے مسخر کردیا ، دنیا کی ہر چیز ہما ر ی خد مت کے لیے بنا ئی ، اور ہمیں اپنے لیے اور ہمارے لیے جنت بنا ئی ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ار شا دہے : ( ما یفعل اللہ بعذا بکم ان شکر تم و اٰمنتم ) اللہ تمہیں عذا ب دیکر کیا کر ے گا اگر تم شکر گزار ی کر و اور ایمان لے آؤ ، گو یا اللہ فر ما نا چا ہتے ہیں کہ مجھے تم سے کیا عد ا وت ہے جو میں تمہیں عذاب دو ں !!!!مجھے کہا ں اپنے قو ت ،طا قت اور با دشا ہت کو ظا ہر کرنے کی ضرورت ؟جو میں تمہیں عذ۱ب میں مبتلا کر و ں !اور تم میر ی مخلو ق ہو ، میں خالق ہو ں ، آ خر تمہیں عذا ب دیکر مجھے کیا ملے گا ؟ بالکل صحیح ار شا د فر ما یا۔ اللہ تو بس یہ چا ہتے ہیں کہ انسا ن مقصد حیا ت کے مطا بق زندگی گز ا رے ۔اور مقصدِ حیا ت حاصل ہو تا ہے دو چیز و ں سے،’’ شکر‘‘ اور ’’ایما ن ‘‘سے اور مقصدِ حیا ت فو ت ہوتاہے نا شکری اور کفر سے یعنی جب بند ہ دیکھے کہ سا ری نعمتیں دینے والی ذا ت اللہ کی ہے تو ظاہر ہے عقل کا تقاضہ ہے کہ شکرِ منعم بجا لائے ، اور شکر منعم یہ ہے کہ منعم یعنی نعمت دینے والا جو بغیر استحقا ق کے دے رہا ہے ، اس کے احکا م کی پیر و ی ہو اور اسی کو ایما ن کہا جا تا ہے ، گویا شکر مقد مہ ہے ایما ن کا ۔ جب منعم حقیقی کی نعمتوں کا استحضا ر ہو تا ہے؛ تو اس کے نتیجہ میں ایما ن دل میں مو جز ن ہو تا ہے ، گو یا ایما ن نتیجۂ شکر ہے اور یہی مقصد حیا ت ہے ۔ اب بتائیے اس میں کیا غلط ہے !!! 
اب سو ال پیدا ہو تا ہے کہ جب اللہ کو عذ ا ب دینے سے کوئی فا ئد ہ نہیں ہے تو پھر کیو ں عذ اب دیتے ہیں؟ یا دیں گے؟ تو اس کا سا د ہ سا جو ا ب یہ ہے کہ اللہ اپنی کسی خو ا ہش کے لیے العیا ذ با للہ عذ اب نہیں دیتے اورنہ کسی کو ذلیل کر نے کے لیے ۔ اللہ کو نہ اپنے بند و ں کو عذ اب دینے سے لطف آ تا ہے!!نہ اللہ اپنی بادشاہت اور طاقت کا اظہا ر کر نا چا ہتے ہیں ،بلکہ اللہ عذا ب دیتے ہیں، بند ے کو قا نو نِ الٰہی کی مخا لفت کی وجہ سے ، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے شیطا ن کو کہد یا تھا ( لأملأ ن جہنم منک وممن تبعک منہم اجمعین)کہ اے شیطان! میں تجھے اور جو تیر ے تا بع ہوں گے ا ن سے جہنم بھر دو ں گا ۔ اب سو ا ل ہوا پھر عذاب کیوں ؟تو جو ا ب ہے اس لیے کہ اس نے ناشکر ی کی اور جو اس کی پیروی کرے گا؛ وہ بھی نا شکر ا ہو گا۔ لہٰذا استحقاقِ عقا ب ثا بت ہوگیا، گو یا عذ اب محض اس لیے کہ مقصد حیا ت کے خلا ف کیا، جس کا علم نا شکر ی اور کفر سے ہوا ، اللہ ہما ری حفا ظت فر ما ئے ۔
اللہ ہم پر بلا شبہ بے پنا ہ مہر بان ہے ، ویسے تو اس پر بے شما ر دلا ئل ہیں جس میں سے چند یہ ہیں :
(۱)۔۔۔ہم گنا ہ کر تے ہیں مگر اللہ پھر بھی نعمتو ں سے محر و م نہیں کرتا ۔
(۲)۔۔۔ہم اس کے احکا م اور اوا مر پر عمل نہیں کر تے، مگر پھر بھی وہ فو راً گرفت نہیں کر تا ۔ 
(۳)۔۔۔ بہت سے لو گ اللہ کے با رے میں غلط سو چتے ہیں، مگر وہ عذ ا ب نا زل نہیں کر تا ۔ 
(۴)۔۔۔ بہت سے لو گ کھلے عام اللہ کا انکا ر کرتے ہیں ،مگروہ انہیں ہلا ک نہیں کر تا ۔
(۵)۔۔۔بہت سے لو گ کھلے عا م اس کو بر ابھلا کہتے ہیں، مگر پھر بھی وہ سزانہیں دیتا ۔ 
(۶)۔۔۔ مصا ئب پر جب اس کی طر ف گنہگا ر بھی ر جو ع کر تا ہے ، تو وہ مہربانی سے کا م لیتا ہے۔ 
منجملہ اس میں ایک یہ بھی ہے کہ بند و ں کو عذا ب سے خلا صی دینے کے لیے وقفہ وقفہ سے متبر ک اور فضیلت کے حا مل ایا م اور ما ہ مہیا کر تا ہے ، تا کہ بند ہ بیتے ہوئے ایا م کی نا فر ما نی کی تلا فی کر لے اور عذاب سے بچ جا ئے۔
عزیزو! رمضا ن ا ن با بر کت شہو ر وا یا م میں سب سے افضل اور گو لڈ ن چانس ہے؛ لہٰذا شکر ا نہ نعمت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم ر مضا ن سے قبل اس کی بھر پور تیا ری میں لگ جا ئیں ۔
تو آیے آپ رمضا ن کی تیا ر ی کیسے کر یں ؟اور رمضان کیسے گزا ریں ؟کے سلسلے میں چند امور سے وا قفیت حا صل کر تے ہیں ۔
ہمار ے دلو ں میں رمضا ن کی قد ر دا نی اسی وقت پیدا ہو گی، جب ہم مند ر جہ ذ یل امو ر کا رمضا ن سے قبل اہتمام کر لیں ۔ 
( ۱ ):۔ گزر ے ہوئے سا ل کا محا سبہ : ذ را ایک بار تنہا ئی میں بیٹھ جا ئیں اور گز شتہ رمضا ن سے لیکر اس رمضا ن تک ہم نے کیا کیا نیکیاں کیں اور کیا کیا برا ئیا ں کیں ؟ اس کا د ل میں استحضا ر کر یں ، ر مضا ن سے کم از کم دو ہفتہ پہلے یہ کا م کر یں ، مثلاً پند رہ شعبا ن کو ،ویسے بھی پند رہویں شعبا ن کی را ت فضیلت کی حا مل ہے ، جب محاسبہ کرنے پر یہ محسو س ہو کہ بر ائیا ں ز یا دہ اور نیکیاں کم ہیں؛ تو اچھی طر ح و ضو کر یں اور دو ر کعت صلا ۃ التو بہ خشو ع و خضوع کے ساتھ ادا کر یں ، دو رکعت بعد خو ب استغفا ر کر یں ، اور رو رو کر اللہ سے اپنے گنا ہوں کی معا فی طلب کر یں اور اگرکسی کو تکلیف دی ہو تو اس سے فوراً معا فی ما نگیں ، پھر دعا میں اللہ سے تو فیقِ خیر کا مطا لبہ بھی کریں ، اور اللہ سے یہ عہد کر لیں کہ اے اللہ آ ج سے میں ہر نما ز جما عت کے سا تھ ادا کر وں گا اور تیر ا ہر حکم تسلیم کر و ں گا ، ہر حا ل میں تیری اطاعت کر و ں گا ، اور نا فر ما نی سے اجتنا ب کر وں گا ، اور نما ز با جما عت اور تلا و ت کا اسی د ن سے آ غا ز کر دیں ۔
(۲ ):۔ تھو ڑی دیر بیٹھ کر اللہ کے سا منے قیا مت کے دن ہو نے والی پیشی کا استحضا ر کر یں ، کہ قیا مت قا ئم ہو گی آ د م علیہ السلا م سے لیکر قیا مت تک آ نے والے اربو ں کھر بو ں انسا ن کے ر و بہ رو میر ی زندگی کے ہر ہر لمحہ کا حسا ب ہو گا ، وہ دن کیسا سخت اور کٹھن ہو گا ،اگرمیر ی نیکیا ں کم اور برا ئیا ں ز یا دہ ہوں گی ، تو میں ساری مخلو ق کے سامنے ذ لیل ہو جا ؤں گا اور اللہ کی نا ر اضگی کیسے برداشت کر سکوں گا ۔ اس کے بعد عذ اب کا استحضارکریں، انشاء اللہ اس استحضا ر سے کا یا پلٹ جا ئے گی ۔ 
(۳):۔ رمضا ن کی فضیلت پر جو احا دیث و آ یا ت و ار د ہو ئی ہیں ، شعبان ہی سے اس کا مذ ا کر ہ اور مطا لعہ شر و ع کر دیں ، اور دل سے پڑ ھیں اورسنیں ۔ علما اور طلبا بھی مسجد و ں میں ا س کا اہتمام کر یں۔ عو ا م بھی دلچسپی لیں ، اس میں شریک ہو ں ا ور خو ب تو جہ سے سنیں اور عمل کا عز م و ار ا د ہ کر لیں مثلاً (شہر رمضا ن الذی انز ل فیہ القر آ ن )کی تفسیر معا رف القر آ ن ، بیا ن القر آ ن ، انو ا ر القر آ ن ، تفسیر مظہر ی ، اشر ف التفا سیر ، تفسیر حقا نی ، اور اگر عر بی استعدا د ہو تو ر و ح المعا نی ، تفسیر ر از ی، تفسیر طبر ی، الدر المنثور ، تفسیر ابن کثیر وغیرہ سے دیکھ کر بیا ن کریں ، گھر میں اس کی تعلیم کریں ، تا کہ پہلے سے فضا بننا شر وع ہو جا ئے ۔
فضا ئل اعمال میں جو احا دیث وار د ہو ئی ہیں اور شا ہر ا ہِ علم میں جو مضا مین ہیں اسے بھی پڑ ھیں ۔ 
مثلاً حدیث میں ہے: عَنْ اِبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’مَنْ صَا مَ رَمَضَانَ اِیْمَا نًا وَ احْتِسَا بًا غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ ،وَ مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِاِیْمَا نًا وَ احْتِسَا بًاغُفِرَ لَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ ( بخاری ، مسلم)
(۴ ):۔ مو ت کا وقت کسی کو معلو م نہیں ، لہٰذا یہ تصور کر یں کہ ہو سکتا ہے یہ میر ی زندگی کا آ خر ی رمضان ہے، اگر یہ بھی غفلت سے گز ر جا ئے گا، تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میری آ خر ت کی زندگی دو بھر ہو جا ئے گی ،پھر اللہ کے عذ ا ب سے مجھے کو ن بچا ئے گا ، لہٰذا میں ا للہ کی طر ف متو جہ ہو تا ہو ں ، اس کا ہو کر رہ جا تا ہو ں ۔
(۵ ):۔ رمضا ن سے پہلے ایک نظا م الا وقا ت بنا لیں اور اللہ سے دعا کر یں کہ اے اللہ اس نظا م الاوقا ت کے مطا بق مجھے میری زندگی گز ارنے اور خا ص طو ر پر رمضا ن گز ار نے کی تو فیق عطا کرد ے اور مکمل کوشش اس کے لیے صر ف کر دیں ، نظام الا وقا ت اس طر ح ہو نا چا ہیے ۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES