dushwari

روزے کے آداب اور مکروہات

اداراتی تحقیقی مضمون

روزے کے آدابروزے کے بہت سے آداب ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:
۱) افطار میں جلدی کرنا:سورج غروب ہونے کے فوراً بعد افطار کرنا،اس کی دلیل امام بخاری(۱۸۵۶) اور امام مسلم(۱۰۹۸) کی روایت ہے،حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے روایت کیا ہے کہ آپصلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:

’’لوگ اس وقت تک خیر اور بھلائی میں رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کریں گے‘‘۔ تر یا سوکھی کھجور سے افطار کرنا مستحب ہے،اگر کھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کرنا مستحب ہے۔امام ترمذی(۶۹۶) اور امام ابوداؤد(۲۳۵۶) نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم مغرب کی نماز سے پہلے تر کھجوروں سے افطار کرتے تھے،اگر کھجور نہ ہوتا تو سوکھے کھجور سے افطار کرتے تھے،یہ بھی نہ ہوتا تو پانی کے چند گھونٹ پیتے،کیوں کہ یہ طہور ہے۔
۲) سحری کھانا: اس کے مستحب ہونے کی دلیل امام بخاری (۱۸۲۳ ) ور امام مسلم(۱۰۹۵)کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:’’سحری کھاؤ کیوں کہ سحری کھانے میں برکت ہے‘‘۔سحری کھانا مستحب ہونے کی حکمت یہ ہے کہ روزے کے لئے طاقت حاصل ہو۔امام حاکم نے مستدرک حاکم(۱؍۴۵۲) میں روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فر مایا:’’سحری کے وقت کھا کر روزے کے لئے مدد لو‘‘۔
سحری کا وقت آدھی رات سے شروع ہوتا ہے،سحری کی سنّت کم یا زیادہ کھانے اور پانی پینے سے بھی حاصل ہوتی ہے،ابن حبان نے صحیح ابن حبان میں روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:’’سحری کرو،چاہے ایک گھونٹ پانی سے ہی کیوں نہ ہو‘‘۔ (۸۸۴)
۳)سحری کھانے میں تاخیر کرنا: طلوع فجر سے تھوڑی دیر قبل سحری کھانے سے فارغ ہونا،اس کی دلیل امام احمد(۵؍۱۴۷)کی روایت ہے کہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:’’میری امت اس وقت تک خیر میں رہے گی جب تک افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرے گی‘‘۔
امام بخاری (۵۵۶) نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ’’نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم اور زید بن ثابتؓ نے سحری کھائی،جب سحری کھانے سے فارغ ہوئے تو نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کھڑے ہوگئے اور نماز پڑھی،ہم نے انسؓ سے دریافت کیا:ان کے سحری کھا کر فارغ ہونے اور نماز شروع کرنے کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟انھوں نے فرمایا:پچاس آیتیں پڑھنے کے بقدر‘‘۔
۴) فحش باتوں سے باز رہنا،مثلاً گالی گلوچ،جھوٹ،غیبت اور چغلی وغیرہ نفس کی شہوتوں سے رکنا، مثلاً:عورتوں کو دیکھنا اور گانے سننا وغیرہ۔امام بخاری(۱۸۰۴) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:’’جو کوئی جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں‘‘۔یہ بات جان لینی چاہیے کہ جھوٹ ،گالی گلوچ ،غیبت اور چغلی وغیرہ حرام ہیں ہی،لیکن روزے دار ان چیزوں کا ارتکاب کرے تو روزوں کا ثواب بھی ضائع ہوجاتا ہے، گرچہ ان چیزوں کے ارتکاب سے روزہ صحیح ہوجاتا ہے اور ذمہ داری اور فریضہ ادا ہوجاتا،اسی وجہ سے ان چیزوں کا شمار روزے کے آداب اور سنتوں میں ہوتا ہے۔
۵) فجر سے پہلے غسل جنابت سے فارغ ہوجائے،تاکہ شروع روزے ہی سے وہ پاک رہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ جنابت روزے کے منافی نہیں ہے۔لیکن فجر سے پہلے اس سے پاک ہونا افضل ہے۔
اس کی دلیل امام بخاری کی روایت(۱۸۲۵،۱۸۳۰)ہے کہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم جماع کرنے کی وجہ سے حالت جنابت میں صبح کرتے،لیکن آپ کو احتلام نہیں ہوتا،پھر غسل فرما کر روزہ رکھتے،اسی طرح حیض یا نفاس کا خون بند ہونے کی صورت میں بھی فجر سے پہلے غسل کرنا مستحب ہے۔
۶) پچکاری اور سینکی وغیرہ نہ لگوانا:کیوں کہ اس سے روزہ دار کو کمزوری لاحق ہوتی ہے۔اسی طرح کھانا چکھنے یا چبانے سے احتراز کرنا،کیوں کہ اس سے پیٹ میں چکھی ہوئی چیز جانے کا اندیشہ رہتا ہے،جب کہ پیٹ میں کوئی چیز پہنچنے کی صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
۷) افطار کے وقت یہ دعا پڑھنا: ’’اللّٰھمّ لک صمت وعلیٰ رزقک افطرت،ذھب الظّمأ وابتلّت العروق وثبت الاجر ان شاء اللہ‘‘
اے اللہ! میں نے تیرے خاطر روزہ رکھا اور میں نے تیرے ہی رزق پر روزہ افطار کیا،پیاس بجھ گئی،رگیں تر ہوگئیں اور اللہ نے چاہا تو اجر مل گیا۔
۸) روزے داروں کو افطار کرانا یعنی ان کو کھانا کھلانا،اگر کھانا کھلا نہ سکتا ہو تو ایک کھجور یا پانی کے ایک گھونٹ سے افطار کرانا،رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:’’ جو کوئی روزہ دار کو افطار کرائے،اس کو روزے دار کے بقدر ہی ثواب ملے گا،لیکن روزے دار کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوگا‘‘(ترمذی؍۸۰۷)
۹) صدقہ کرنا،تلاوت قرآن اور اس کا مذاکرہ کثرت سے کرنا،مسجد میں اعتکاف کرنا خصوصاً رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرنا۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے دریافت کیا گیا:کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:’’رمضان کے مہینے کا صدقہ‘‘۔(ترمذی؍۶۶۳)
امام بخاری (۱۸۰۳)اور امام مسلم(۲۳۰۸ نے روایت کیا ہے) کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام رمضان میں نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس ہر دن آتے اور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم ان کے سامنے قرآن کی تلاوت فرماتے۔
روزے کے مکروہات:۔
مندرجہ بالا آداب کی مخالفت کرنا مکروہ ہے،ان میں سے بعض مکروہ تنزیہی ہیں،مثلاً: افطارمیں تاخیر کرنا،سحری جلدی کھانا اور بعض مکروہ تحریمی ہیں۔مثلاً:غیبت کرنا،چغلی کھانا اور جھوٹ بولنا وغیرہ۔
(فقہ شافعی مع دلائل وحکم ۔ترجمہ:ڈاکٹر عبد الحمید اطہر ندوی۔ج؍۱ ص؍۳۱۶ تا ص؍۳۱۸ )

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES