dushwari

اردو اخبارات کے معیار دیگر اخبارات سے کئی بہتر

سید جعفر حسین ‘مدیر روزنامہ ’’صدائے حسینی‘‘

اردو صحافت ہمیشہ سے بلند معیاری رہی ۔ اسے مہم جوئی اور ترسیل میں منفر دو پختہ کار ہونے کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے ۔ آزادی کی لڑائی میں بھی اردو اخبارات نے جو رول ادا کیا ہے وہ آزاد ہندوستان کی تاریخ کا سنہرا باب رہا ہے ۔

1857کی پہلی جنگ آزادی کے بعد برطانوی سرکار نے جن مجاہدین کودار پر چڑھا یا ان میں پہلے صحافی اردو کے ملّا محمد باقر تھے جو مولانا محمد حسین آزاد کے والد بزرگوار تھے۔ جنکی جاندار تحریروں نے مجاہدین میں سرفروشی اور سرشاری کا جذبہ پیدا کیا تھا۔ تقریباً دو صدی بعد بھی اردو اخبارات اپنے معیار اور مقام کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اردو اخبارات پہلے بھی اپنے سامنے ایک تحریک اور مہیم رکھتے تھے۔ آزادی سے قبل وہ تحریک آزادی کے محرک تھے ۔ حصول آزادی کے بعد بھی ان کے سامنے آج بھی تحریکیں موجود ہیں وہ مسلم مسائل کو اٹھانے اوقافی معاملات کو اجاگر کرنے اور دیگر سماجی برائیوں جہیز ، گھوڑا جوڑا، لین دین وغیرہ کے خلاف پر زور آواز بلند کررہے ہیں جبکہ دیگر زبانوں کے اخبارات میں ان مسائل کا تذکرہ قال قال ہی نظر آتا ہے ۔وہ جدید ٹیکنالوجی سے بھی بھر پور استعفادہ کررہے ہیں۔ انگریزی اور دیگر زبانوں کے اخبارات کے مماثل ملٹی کلر ، آف سیٹ پر چھپ کر شایع ہورہے ہیں۔ اسکے باوجود اردو اخبارات کے معیار کو بلند کرنے کی باتیں اردو صحافیوں کو پست ہمت کرنے اور انھیں نفسیاتی دباؤ میں مبتلاکرنے کے مترادف ہیں ۔ ہاں یہ بات ان صحافیوں کیلئے کہی جاسکتی ہے جو صحافی نہیں ہیں ۔ صرف چربے چھاپ کر خود کو صحافی منوانے کی کوشیش کرتے رہتے ہیں اور حکومت کی جانب سے حاصل ہونے والی مراعات سے مستفید ہونے کی جستجو میں مشغول رہتے ہیں۔ لیکن حقیقی اردوصحافی آج بھی دوسری زبانوں کے صحافیوں کی طرح اعلی تربیت یافتہ ہیں۔ اعلی اسناد کے حامل ہیں اس سلسلہ میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے بڑا نمایاں رول ادا کیا ہے ۔ اس جامعہ کے شعبہ ترسیل عامہ کورس یم ۔اے‘ایم سی جے نے بہترین صحافی تیار کر کے اخبارات اور ٹی وی چیانلوں کو دیئے ہیں۔ آج یہ صحافی قومی اور ریاستی اخبارات اور ٹی وی چیانلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ اخبارات میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیو نیکیشن (آئی آئی یم سی ) کی جانب سے دیئے گئے اعلان کو پڑھ کر جہاں مسرت ہوئی ہے وہیں پر دلی صدمہ بھی ہوا ہے۔کیونکہ اس اعلان میں باربار اس نکتہ پر زور دیا گیا ہے کہ اردو صحافیوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت کیلئے آئی آئی یم سی میں اردو جرنلزم کورس شروع کیا جارہا ہے ۔ گویا صرف اردو صحافی ہی غیر معیاری اور صلاحیت سے عاری ہیں اور وہ فن صحافت سے نابلد ہیں جبکہ دوسری زبانوں کے صحافی اعلی تربیت یافتہ اور باصلاحیت ہیں۔ حالانکہ اردو جرنلزم کا کورس مولانا آزاد اردونیشنل یونیورسٹی سمیت دیگر کئی یونیورسٹیوں میں موجود ہے ۔ اس اعلامیہ سے یہ ثابت ہوتاہے کہ تمام زبانوں کے صحافی اعلی تربیت یافتہ اور جدید ٹیکنالوجی سے واقف ہیں جبکہ اردو صحافی غیر معیاری ہیں حالانکہ صحافتی صلاحیتوں اور معیارات کا تعلق زبان سے قطعی نہیں ہوتا ،زبان تو ایک ترسیل کا ذریعہ ہے۔ ٹیکنالوجی اور تربیت ایک اضافی شئے ہے۔ اگر اردو صحافیوں کی تربیت اور انھیں جدید ٹیکنالوجی سے واقف کرائے جانے کے اعلان کو یوں شایع کیا جاتا کہ ہر زبان کے صحافیوں کو جدید ٹیکنالوجی اور بہترین تربیت دینے کیلئے ’’انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن ‘‘ میں ایک کورس شروع کیا جارہاہے تو اردو صحافیوں کی تذلیل و تذہیک اور حوصلہ شکنی نہ ہوتی ۔ اگر اردو اخبارات میں حکومت یاصحافت کے دیگرحلقوں میں کوئی کمی دکھائی دے رہی ہے تو اسکی اہم وجہہ مالیہ کی کمی اور حکومت کا اردو اخبارات کے تئیں متعصبانہ رویہ ہے نہ کہ فنی صلاحیتوں کا فقدان۔ حکومت انھیں اشتہارات دینے میں کوتاہی نہ برتے تو اردو اخبارات کے معیار کو مزید بلند کیا جاسکتا ہے کیونکہ مالیہ کی قلت انھیں محدود کررہی ہے۔ معیار اور صلاحیتوں کی کمی سے اس کا تعلق نہیں ۔ گذشتہ چند سالوں سے جامعات نے ترسیلی شعبہ میں طلباء کی تربیت کر کے بہترین صحافی اردو صحافت کو بھی دیے ہیں۔ اب ان اخبارات میں تربیت یافتہ صحافیوں کی پہلے کی طرح قلت نہیں ہے۔ حکومت اگر واقعی اردو اخبارات سے دلی ہمدردی رکھتی ہے اور چاہتی ہے کہ اردو اخبارات بھی عالمی معیار اور سطح کے ہوں تو انکی مالی مدد کرے ۔انھیں بھی دیگر زبانوں کے اخبارات کی طرح اشتہارات دے انکامعقول معاوضہ دے چھوٹے بڑے اخبارات کے زمرہ میں انھیں تقسیم کرتے ہوئے انکے حوصلوں کو پست نہ کرے۔ حکومت اگر اردوصحافت کی تاریخ پر غور کرے تو اسے اردو صحافت کی خوبیوں کا پتہ چلے گا اور یہ معلوم ہوگا کہ اردو صحافت وہ اولین صحافت جس نے دیگر زبانوں کی صحافت کو ترسیل کا سلیقہ اور خبر نویسی کا فن سیکھایا ہے ۔ اردو صحافت کواس اعتبار سے بھی ممتاز و منفرد مقام حاصل ہیکہ اس زبان نے کبھی ذرد صحافت کی ترسیل نہیں کی۔ اس پر ذرد صحافت کا ٹھپہ ثبت نہیں ہوا۔ اردو صحافت نے فحاشی عریانیت ، سنسنی خیزی اور ار زانی سے کام نہیں لیا۔ ہمیشہ ہندوستانی تہذیب کو ملحوظ خاطر رکھا ۔ اس وجہہ سے بھی اردو صحافت کو قابل فخر اور لائیق ستائیش مقام حاصل ہے۔ اردو اخبارات میں پیج تھری کا انگریزی اخبارات کی طرح کبھی کوئی تصور نہیں رہا۔ فیشن فلم اور دیگرچیزوں جیسے شراب و مسکرات کے اشتہارات شایع نہیں کیے ۔ حالانکہ انھیں مالیہ کی کمی ہمیشہ لاحق رہی۔ سخت ترین پریشانیوں کا سامنا رہا۔ اردو صحافت نے ہمیشہ اپنی سماجی و تہذیبی ذمہ داریوں ، اخلاقی قدروں اور ہندوستانی روایات کو سینہ سے لگائے رکھا۔ کبھی مغرب کے رنگ میں مشرق کر رنگنے کی سعئی نہیں کی۔ اردو قارئین بھی تہذیبی اور مذہبی اعتبار سے قدامت پسند ہیں۔ انکا ذوق اس نوعیت کا نہیں ہے۔ وہ ان باتوں کو ہرگز گوارہ نہیں کرتے۔ اردو صحافت ہمیشہ خود احتسابی کے محور پر گھومتی رہی ہے ۔ کسی اور کو جواب دینے سے پہلے وہ خود کو جواب دہ بنا رکھا ہے ۔ اخلاقی اصولوں ‘ سماجی ذمہ داریوں ‘ سیاسی دباو اور مالی بوجھ کے تلے دبی اردو صحافت نے خود احتسابی کی جو لکشمن ریکھا ابتداء سے کھینچ رکھی ہے اسے لانگنے کی کوشش نہیں کی۔ یہ ایک ایساوصف ہے جسکی نظیر کسی اور زبان کی صحافت میں نہیں ملتی ۔ یہی چیز اردو صحافت کو محترم و معتبر اور موثر بناتی ہے ۔ دیگر زبانوں خاص کر انگریزی صحافیوں کو یہ تربیت دی جانی چاہیئے کہ وہ اردو صحافت کے اوصاف کو اپنائیں۔عریانیت ، سنسنی خیزی اور فحوشات سے گریز کریں۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES